تاریخ  جاپان

قسط نمبر 10

ٹوکیو اولمپک 1964

جاپان میں گرمائى اولمپک کھیلوں کا انعقاد سن 1964 میں کیا گیا تھا ۔ گو کہ اِس سے پہلے سن 1940 کے اولمپک کھیلوں کی میزبانی بھی جاپان کو دینے کی منظوری مل گئى تھی ، مگر جاپان کی جانب سے چین پر حملے کے باعث یہ اعزاز ہیلسنکی کو دیا گیا  ۔ تاہم کھیلوں کا انعقاد نہ ہوسکا کیونکہ جنگ عظیم دوئم کی وجہ اِن کھیلوں کی منسوخی کا اعلان کر دیا گیا ۔

ٹوکیو اولمپک میں امریکہ نے 36 طلائی تمغوں کے ساتھ پہلی ، سوویت یونین نے 30 کے ساتھ دوسری اور جاپان نے 16 گولڈ میڈلز کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی تھی ۔ یہ ایشیاء میں منعقد ہونے والے پہلے اولمپک کھیل تھے ۔ ایک اندازے کے مطابق ، ٹوکیو میں کھیلوں کے انعقاد کیلئے تقریباً 3 بلین امریکی ڈالرز خرچ کیے گئے ۔

 

جاپانی صنعتی پیداوار میں تیز ترقی

امریکی قبضے اور ٹوکیو اولمپک کھیلوں کے بعد جاپانی معاشرہ تیزی سے مغربی انداز اپنانے لگا۔ امریکی موسیقی، لباس اور اندازِ زندگی اپنایا جانے لگا ۔ جاپان کے کئى دانشوروں کی تخلیقات کو یورپ اور امریکہ میں پذیرائى ملنے لگی ۔ جاپانی انیمیشن  کارٹون اور مانگا کامِک کتابیں دُنیا بھر میں مشہور ہونے لگیں ۔ کہا جاتا ہے کہ 1960 کی دہائى میں جاپان نے اتنی بہترین معاشی پالیسیاں مرتب کیں کہ اُس کی سالانہ اقتصادی شرح نمو 9 فیصد تک جا پہنچی ۔ خاص طور پر آٹوموبائل اور الیکٹرانکس کی صنعت نے زیادہ ترقی کی ۔  بندرگاہوں، سڑکوں اور ریلوئے لائنوں کی تعمیر کی گئى  جس کی وجہ سے جاپانی برآمدات تیزی سے بڑھانے میں بہت زیادہ مدد ملی ۔ سرکاری اخراجات میں کمی کی گئى اور ٹیکس آمدنی کو عوامی فلاحی منصوبوں کیلئے بہتر طور پر استعمال کیا جانے لگا ۔  چونکہ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کو اکثریت حاصل تھی جس نے 1963 کے انتخابات میں 55 فیصد ووٹ لے کر ایوانِ زریں میں 60 فیصد نشستیں جیت لی تھیں ، اِسلئے اُسے بہتر پالیسیاں تشکیل دینے میں خاصا اختیار حاصل تھا اور اُس نے مُلک کو بڑی اقتصادی ترقی سے ہمکنار کیا ۔ اُسی دور میں شنکانسین ٹرین کا آغاز کیا گیا ۔ سن 1964 میں شروع ہونے والی توکائیدو شنکانسین کی ابتدائی رفتار 210 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی، جبکہ اس کی رفتار سنہ 2003 میں مقناطیسی نظام کے ذریعے ورلڈ ریکارڈ 581 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی ۔

سنہ 1960 کی دہائى میں جاپانی گاڑی ساز صنعت نے تیزی سے ترقی کرنی شروع کی اور کہا جاتاہے کہ جاپانی وزارتِ بین الاقوامی تجارت و صنعت MITI نے اِس حوالے سے کلیدی کردار ادا کیا ۔ 1950 کی دہائى کی وسط میں ”عوامی گاڑی“ تیار کرنے کیلئے کئى اعانتیں دیں گئیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب بین الاقوامی سطح پر مسابقت میں تیزی آئى تو وزارت نے 60 کی دہائى کی وسط میں جاپانی گاڑی سازوں کے ادغام پر زور دیا اور نسان نے پرنس موٹرز اور اِسی طرح ٹویوٹا نے ہینو اور ڈائی ہاتسو کو ضم کیا ۔ اِس فیصلے کے بہت دور رس نتائج سامنے آئے اور جاپان چند سالوں میں دُنیا میں گاڑیاں بنانے کا چھٹا بڑا مُلک بن گیا ۔

جنگ عظیم دوئم کے بعد جاپانی الیکٹرانکس مصنوعات میں بھی تیزی سے ترقی ہوئى اور معیار و پیداوار دونوں میں اضافہ ہوا ۔ اِس میدان میں Sony نے بڑا کردار ادا کیا ۔ یہ کمپنی سنہ 1946 میں Masaru Ibuka اور Akio Morita نے قائم کی تھی ۔ سونی نے جدید الیکٹرانکس میں بڑی تیزی سے ترقی کی اور پہلا پاکٹ سائز ریڈیو ایجاد کرکے سونی نے جاپان اور دُنیا بھر میں بڑا نام کمایا ۔ بعد میں جاپانی کمپنیوں نے ٹرانزسٹرز کے بعد سیمی کنڈکٹرز کی پیداوار شروع کی جس کی دُنیا بھر میں بہت مانگ رہی ۔

جاپانی مصنوعات نے بہتر معیار کی وجہ سے دُنیا کی ہر مارکیٹ پر غالبہ پانے کی کوشش کی جس کی وجہ سے اُسے امریکہ اور یورپی مصنوعات کے مقابلے میں ترجیح دی جانے لگی ۔

عموماً کہا جاتا ہے کہ جاپان کی ترقی میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے ۔ اِس پارٹی کا سنہ 1955 میں اُس وقت قیام عمل میں لایا گیا تھا، جب جناب  Yoshida Shigeru کی زیرِقیادت لبرل پارٹی اور جناب Ichiro Hatoyama کی قیادت میں جاپان ڈیموکریٹک پارٹی کا ادغام کیا گیا ۔ یہ دونوں قدامت پسند جماعتیں تھیں اور اِن کا مقصد جاپان سوشلسٹ پارٹی کے خلاف ایک مضبوط اتحاد قائم کرنا تھا ۔ اِسی اتحاد کی بدولت اُنہوں نے بائیں بازوکی جماعتوں کے خلاف اکثریت حاصل کرکے اقتدار سنبھالا ۔

ایل ڈی پی پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ امریکی انٹیلیجنس ایجنسی CIA سے بھرپور مالی معاونت حاصل کرتی رہی ہے تاکہ سوشلسٹ اور کمیونسٹ نظریات والی بائیں بازو کی جماعتیں اقتدار میں نہ آئیں ۔ امریکی پالیسی تھی کہ جاپان میں کسی بھی صورت میں سوشلسٹوں اور کمیونسٹوں کا زور نہ بڑھے کیونکہ جاپان کے ہمسایہ ممالک سوویت یونین ، شمالی کوریا اور چین پہلے ہی سوشلزم کا نظام رائج کرچکے تھے اور امریکہ ، یورپ میں بھی سوشلزم کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے اقتصادی اور فوجی اقدامات کرچکا تھا ۔

امریکی جنرل میک آرتھر نے 6 جون 1950 کو اُس وقت کے وزیر اعظم Yoshida کے نام ایک خط بھیجا تھا جس میں اعلٰی سرکاری عہدوں پر تعینات کمیونسٹ نظریات کی حامل شخصیات کو نکالنے کی تاکید کی گئى تھی ۔ جریدے ایشیاء پیسیفیک کے مطابق، 1948 سے 1950 تک کی مدت میں انتظامی عہدوں، سرکاری سکولوں کے اساتذہ اور یونیورسٹی پروفیسروں اور نجی کمپنیوں سے سوشلسٹ نظریات کے 27 ہزار سے زائد افراد کو نکال دیا گیا تھا ۔ 

 

جاپان اور جنوب مشرقی ایشیا ء

جاپان نے اُن ایشیائى ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی بھرپور کوشش کی جن پر جاپانی شاہی فوج کا قبضہ رہا یا جاپانی جارحیت کا شکار رہے ۔ گو کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تعلقات میں بہتری آئى ہے تاہم یاسوکونی عبادتگاہ کا ذکر کرنا تمہید کے طور پر ضروری ہے کیونکہ یہ  معاملہ اب بھی کبھی کبھار اُس وقت تنازعہ کی صورت اختیار کرلیتا ہے جب جاپانی پارلیمنٹ کے اراکین یا مقتدر شخصیات اِس کا دورہ کرتے ہیں ۔

یہ شنتو مذہب کی عبادتگاہ ہے جواُن افراد کی روحوں کی یاد کیلئے ہے جنہوں نے سنہ 1867 سے 1951 تک سلطنتِ جاپان کی خدمت کی یا لڑتے ہوئے مرگئے ۔ ایک اندازے کے مطابق ، عبادتگاہ کے ریکارڈ بُک میں چوبیس لاکھ ، چھیاسٹ ہزار پانچ سو بتیس افراد کا اندراج کیا جا چکا ہے ۔ اِس میں ایک ہزار اڑسٹھ وہ افراد بھی ہیں جنہیں جنگ عظیم دوئم میں جنگی جرائم کی پاداش میں اتحادیوں کے قائم کردہ ٹربیونلز نے سزائے موت سنا ئی تھی ۔

جاپانیوں کو یہ افسوس زندگی بھر رہے گا کہ اُن کے افراد کو جنگی جرائم کی بناء پر سزائے موت دی گئى، لیکن ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملے میں لاکھوں بے گناہ افراد کو ہلاک و زخمی کرنے کے جرم میں کسی امریکی کو سزا نہیں دی گئى ۔ جاپان کے اراکین پارلیمنٹ یا وزیراعظم نے جب بھی اِس عبادتگاہ کا دورہ کیا ہے تو چین، شمالی و جنوبی کوریا اور تائیوان سمیت کئى حلقوں سے تنقید بھری آوازیں اُٹھتی ہیں کہ جن لوگوں نے اِن ممالک کے عوام کے خلاف جنگی جرائم کیے ہیں اُنہیں کسی بھی صورت میں تعظیم پیش نہ کی جائے ۔ جاپان کے سابق وزیر اعظم جُن ایچیرو کوئى زومی اِس حوالے سے خاصے تنقید کا نشانہ بنتے رہے ہیں جنہوں نے سنہ 2001 سے 2006 تک باقاعدگی سے یاسکونی عبادتگاہ کا نجی طور پردورہ کیا ۔   

جنگ عظیم دوئم کے بعد ، جاپانی خارجہ پالیسی نے کروٹ لی اور جنوب مشرقی ایشیاء کے جن ممالک کو جاپانی عسکریت پسندی سے  بہت نقصان پہنچا تھا اُن کے ساتھ سنہ 1950 کی دہائى میں روابط بحال اور مضبوط کرنے کیلئے مختلف اقدامات کیے گئے ۔ سنہ 1954 میں جاپان نے کولمبو منصوبے میں حصہ لیا اور کئى جاپانی تکنیکی اور زرعی ماہرین کو خطے کے مختلف ممالک میں تربیت اور رہنمائى فراہم کرنے کیلئے بھیجا ۔ اُسی سال کاروباری تنظیم Asian Association  قائم کی گئى جس کا مقصد، ایشیاء کے ترقی پذیر ممالک کو جاپانی آلات اور اور ٹیکنالوجی بہم پہنچانا تھا ۔ ایک سال بعد جاپان نے اقوام متحدہ کے اقتصادی کمیشن برائے ایشیا اور مشرقِ بعید میں شمولیت اختیار کی اور سنہ 1955 ہی میں جاپان نے ایشیاافریقہ کانفرنس کیلئے وفد بھیجا۔ جب لبرل ڈیموکریٹک پارٹی معرض وجود میں آئى تو اُس وقت کے وزیر خارجہ نے خیال ظاہر کیا کہ اُن کا مُلک جنوب مشرقی ایشیاء میں استحکام پیدا کرنے کیلئے طویل مدتی اقتصادی منصوبوں کا ارادہ رکھتا ہے ۔ اُسی دہائى میں جاپان نے جنگ کے نقصانات کا ازالہ کرنے کیلئے سنہ 1960 سے پانچ سالہ مدت میں جنوبی ویت نام کو  3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کیا ۔ اِسی طرح چھ سالہ مدت میں لاؤس کو 20 لاکھ 80 ہزار ڈالر، کمبوڈیا کو پانچ سال میں 40 لاکھ 20 ہزار ڈالر اور تھائى لینڈ کو 2 کروڑ 68 لاکھ ڈالر کی ادائیگی پر رضامندی ظاہر کی گئى ۔

اِسی دہائى میں شروع ہونے والی جنگِ ویت نام میں جاپان نے غیر جانبدار موقف اپنایا ۔ یہ جنگ 30 اپریل 1975 تک جاری رہی۔ اِس جنگ میں کوریا کی تاریخ دہرائى گئى جہاںکمیونسٹ اتحادیوں نے  شمالی ویت نام کی مدد کی جبکہ جنوبی ویت نام کی امریکہ اور جنوب مشرقی ایشیائى معاہدہ تنظیم SEATO نے مدد کی ۔ اِس جنگ میں ویت نامیوں نے امریکی استعمار کے خلاف گوریلا جنگ لڑی جو امریکہ کیلئے بہت مہنگی پڑی اور بالاخر اُسے وہاں سے نکلنا پڑا ۔

ویت نام کی جنگ میں جاپان نے فوجی کردار ادا نہیں کیا بلکہ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کی حوصلہ افزائى کی ۔ امن قائم ہونے کے بعد جاپان اور ویت نام کے سفارتی تعلقات اگست 1975 میں  قائم ہوئے ۔

 

جاپان  چین تعلقات

جاپان اور چین کی تاریخ کئى باہمی رشتوں اور رنجشوں سے بھری پڑی ہے ۔ کیونکہ جغرافیائى لحاظ سے  دونوں ممالک کے مابین پانی کی ایک تنگ سی پٹی حائل ہے اِسلئے ایک دوسرے پر اثر انداز ہونا ایک فطری سی بات ہے ۔

جنگ عظیم دوئم کے بعد دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں اُس وقت تیزی آئى جب 1960 کی دہائى میں روس اور چین کے تعلقات خراب ہوئے جس کی بناء پر روس نے اپنے تمام ماہرین واپس بلوا لیے ۔ ایسے میں چین کے پاس بہتر راستہ یہی تھا کہ وہ جاپان کی تکنیکی مہارت اور مستحکم مالی حثیت سے استفادہ کرے ۔  اِس سلسلے میں پہلا بڑا قدم Liao-Takasaki معاہدہ تھا جس کی بدولت جاپان ، چین کو صنعتی کارخانوں کی خرید کیلئے مالی معاونت دینے پر رضامند ہوا اور چین کو ٹوکیو میں اپنا تجارتی مِشن کھولنے کی اجازت دی گئى ۔ دونوں مُلکوں کے باہمی تعلقات میں اُس وقت تیزی پیدا ہوئى جب 1972 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن نے عوامی جمہوریہ چین کا پہلی بار دورہ کیا ۔ یہ دورہ اُس وقت طے پایا جب اُس وقت کے امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر ہنری کسنجر نے پاکستان کے توسط سے خُفیہ طور پر بیجنگ  جاکر باہمی تعلقات میں بہتری لانے کیلئے نکسن کے دورے کا اہتمام کیا ۔ جاپان کے اُس وقت کے وزیر اعظم Tanaka Kakuei  نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بیجنگ کا دورہ کیا اور ستمبر 1972 میں دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات قائم ہوئے ۔ ماؤژے تنگ کی وفات کے بعد چین  میں اقتصادی اصلاحات کا آغاز ہوا تو ٹوکیو اور بیجنگ کے تعلقات میں وسعت لانے کی مزید گنجائش پیدا ہوئى ، کیونکہ اب چین میں نجی ملکیت کے کاروبار کو ترقی ملنے لگی تھی اور یوں جاپانی سرمایہ کاروں کو سرمایہ لگانے کے کئى شعبے پیدا ہوئے ۔

جاپان اور چین کے مابین امن معاہدے کیلئے سنہ 1974 میں بھی کوشش کی گئى تھی لیکن کچھ شِقوں پر اختلاف کی وجہ سے یہ سلسلہ رُک گیا تھا ۔  شمالی تائیوان میں واقع Senkaku جزائر پر اور Ryukyu جزائر کے جنوبی حصے پربھی اختلاف تھا ۔ چار سال بعد دونوں ممالک نے امن عمل کو ایک بار پھر بڑھایا اور 12 اگست 1978 کو امن اور دوستی کے معاہدے پر دستخط ہوئے ۔ چین کے رہنماء ڈینگ ژیاؤپنگ اور جاپان کے  وزیراعظم Fukuda Takeo نے اِس معاہدے پر دستخط کیے ۔