جاپان کے وزیر انصاف مستعفی۔پارلیمانی ذمہ داری کو آسان لینے کی بات کی تھی ۔

 

جاپان کے وزیر انصاف مینورُو یاناگیدا نے اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا ہے ، اور وزیر اعظم ناؤتو کان نے ان کا استعفیٰ منظور کرلیا ہے ۔

جناب یاناگیدا کو پیر کی صبح وزیراعظم نے طلب کیا تھا ، جہاں ان سے استعفیٰ لیا گیا ۔ وزیر اعظم نے ، چیف کابینہ سیکرٹری ، یوشیتو سینگوکُو کو عارضی طور پر وزارت انصاف کا قلمدان سنبھالنے کا کہا ہے ۔

جناب یاناگیدا نے پیر کے روز نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان میں ضمنی بجٹ کی منظوری اولین ترجیح کی حامل ہے ، اور وہ نہیں چاہتے کہ ان کے گزشتہ بیان سے پیدا ہونے والی صورتحال ، بجٹ کی کاروائی میں تاخیرکا باعث بنے ۔انہوں نے کہا کہ وہ ضمنی بجٹ کی منظوری کو یقینی بنانے کے لئے اپنا عہدہ چھوڑ رہے ہیں ۔

واضح رہے کہ نومبر کے اوائل میں ، انہوں نے ہیروشیما پریفیکچر میں واقع اپنے حلقے میں ، ایک اجلاس کے دوران ، بطور پارلیمانی وزیر اپنی ذمہ داریوں کو نہایت آسان قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں صرف معمول کے دو جملے دہرانے ہوتے ہیں ۔ ایک جملہ ’میں انفرادی معاملات پر تبصرہ نہیں کرسکتا ‘ تھا ، جبکہ دوسرا جملہ تھا ، ’میں اس معاملے سے قانون کے تحت مناسب طریقے سے نمٹ رہا ہوں ‘ ۔

ان کے اس بیان پر حزب اختلاف کی جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے شدید احتجاج کیا تھا ، اور جناب یاناگیدا نے معذرت کرتے ہوئے اپنے الفاظ واپس لئے تھے ، تاہم حزب اختلاف ، ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہی تھی ۔