واسیدا یونیورسٹی میں جاپان کی مسلم کمیونٹی کے بارے میں سیمینار

محمد انور میمن

 

ٹوکیو میں واقع ، جاپان کی دنیا بھر میں مشہور ’واسیدایونیورسٹی‘میں مورخہ ۷ مارچ بروز اتوار ، جاپان کی مسلم کمیونٹی کے بارے میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کا عنوان’جاپان میں مسلم نیٹ ورک اور جاپانی مسلمان ‘تھا ۔ سیمینار میں جاپان کی مختلف مساجد اور اسلامی تنظیموں کے ۸نمائندوں کو مقالے پیش کرنے اور مباحثے میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی ۔ حاضرین کی تعداد۸۰ کے قریب تھی ۔ سیمینار مکمل طور پر جاپانی زبان میں تھا ۔

یاد رہے کہ یہ واسیدا  یونیورسٹی کی جانب سے اس نوعیت کا دوسرا سیمینار تھا ۔ پہلا سیمنار ، گزشتہ سال ۹ فروری کو منعقد کیا گیا تھا ۔

سب سے پہلے واسیدا یونیورسٹی کے کلیہ معاشرتی سائنس کے پروفیسر ہیروفومی کوجیما نےافتتاحی خطاب کیا ۔ اسکے بعد ، یونیورسٹی کے شعبہ کثیرالنسلی تحقیق کے پوسٹ ڈاکٹر طالبعلم ہیروفومی اوکائی نے ’جاپانیوں کے اسلام کے بارے میں تصورات‘ کے عنوان پر اپنی تحقیق پیش کی ۔ انہوں نے بتایا کہ اکثر جاپانیوں میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں جو منفی تصور پایا جاتا ہے ، وہ ذاتی تجربات کی بنیاد پر نہیں ، بلکہ میڈیا پر پیش کی جانے والی رپورٹوں کی بنیاد پر ہے ۔ اخبارات اور ٹی وی پر وہ مسلمانوں کے پیدا کردہ دہشت گردی جیسے مسائل کے بارے میں دیکھتے اور پڑھتے ہیں ، جس سے انہیں لگتا ہے کہ مسلمان کوئی زیادہ اچھی قوم نہیں ۔ یقیناً مسلمانوں کی تاریخ پڑھنے والے جاپانیوں کا تصور مختلف ہے ، لیکن وہ اقلیت میں ہیں ۔

 دوسرے نمبر پر ناگویا مسجد کے جناب شیر افضل ریکا نے ’جاپان کی مسلم کمیونٹی کا عمومی جائزہ‘کے عنوان سے مقالہ پیش کیا ۔ افغانستان سے تعلق رکھنے والے جناب ریکا ، ناگویا کی کنجو گاکوئن یونیورسٹی  Kinjo Gakuin University میں استاد ہیں ۔انہوں نے نومسلم جاپانی مردوخواتین کی تعلیم و تربیت اور نئی نسل کی اسلامی تعلیم کے مسائل کا ذکر کیا ۔اس کے علاوہ جاپان میں حلال خوراک کے حصول کی مشکلات ، اور مسلم میتوں کی تدفین کے لئے قبرستان کے مسائل کے بارے میں بھی بتایا ۔ انہوں نے بتایا کہ ناگویا میں قبرستان کے لئے ایک قطعہ زمین کی خریداری تقریباً طے ہو چکی تھی ، لیکن دوسرے مقامات کی طرح وہاں بھی ، بعض رہائشیوں کی جانب سے مخالفت کے باعث، مقامی بلدیہ نے اس کی اجازت نہیں دی ۔ جناب ریکا نے مسلمانوں اور عام جاپانی باشندوں کے درمیان تعلقات کے حوالے سے بتایا کہ مسلمان ، خصوصاً غیرملکی مسلمان ، جاپانی ثقافت اور ان کے انداز کو سمجھنے کے کوشش نہیں کرتے ، اور اپنا انداز فکر ان پر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں ، جس سے مسائل جنم لیتے ہیں ۔ اکثر غیرملکی مسلمان ، جاپانی زبان میں بھی مہارت نہیں رکھتے ۔ انہوں نے کہا کہ جاپانیوں میں تبلیغ اسلام کے لئے ، ہمیں ان کے انداز کو سمجھنا ہوگا اور اسے اہمیت دینا ہوگی ۔

 

ان دو کلیدی مقالات کے بعد پینل ڈسکشن کا پروگرام تھا ، جس کی نظامت کی ذمہ داری راقم کے سپرد تھی ۔ پینل ڈسکشن میں ان سات افراد نے شرکت کی ۔

جاپان اسلامک ٹرسٹ (اوتسکا مسجد) کے جناب ہارون قریشی ۔

اسلامک سرکل آف جاپان کے جناب احمد مائینو ۔

نیہاما مسجد کے جناب سلیمان ہاماناکا ۔

توکوشیما مسجد کے جناب عبدالقادر اوباری ۔

ہوکائیدو اسلامک سوسائٹی کے جناب توفیق سومی ۔

ناگویا مسجد کے جناب شیر افضل ریکا ۔

جاپان مسلم ایسوسی ایشن کے سابق صدر ، جناب خالد ہگوچی ۔

پینل ڈسکشن میں پہلے تین شرکاء نے اپنے اپنے مقالے پیش کئے ، اور ہر مقالے کے بعد ، پینل کے تمام شرکاء نے اس موضوع پر بحث و مباحثہ کیا ۔

’جاپان کی مسلم کمیونٹی کے مسائل‘ کے عنوان سے پیش کئے گئے پہلے مقالے میں جناب ہارون قریشی نے بتایا کہ مغربی میڈیا کے اثرات کے باعث جاپانیوں میں اسلام کے بارے میں کافی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ، جبکہ ان کو دور کرنے کی ہماری کوششیں بھی ناکافی ہیں ۔ انہوں نےجاپان میں مسلمانوں کی نئی نسل کی تعلیم کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ جاپان اسلامک ٹرسٹ کے زیر اہتمام اوتسکا مسجد کے ساتھ بچوں کا کے جی اسکول قائم کردیا گیا ہے ، اور مستقبل میں اسے پرائمری اسکول بنانے کا منصوبہ ہے ۔ تاہم ، انہوں نے کہا کہ بچوں کو اسلامی تعلیم کے ساتھ ساتھ عام تعلیم فراہم کرسکنے والے اساتذہ کی شدید قلت ہے ۔ انہوں نے قبرستان کے مسئلے کے حل کی کاوشوں کا بھی ذکر کیا ۔

 دوسرے مقالے کا عنوان  ’جاپان میں اسلام‘ تھا ، جسے نو مسلم جاپانی عالم احمد مائینو نے پیش کیا ۔ انہوں نے جاپان میں عربی زبان کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ، شام میں اسلام کی تعلیم حاصل کی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جاپان میں اسلام کی آمد کو ایک صدی  سے زائد عرصہ گزر  چکا ہے ، اور پہلے جاپانی مسلمان کو حج کئے بھی تقریباً ایک سو سال ہو گئے ہیں ۔ تاہم اگلی نسلوں کو اسلامی تعلیم فراہم نہ کی جاسکی ، جس کے باعث جاپان میں اسلام کو فروغ حاصل نہیں ہوا ۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پرانے جاپانی مسلمانوں اور نئی نسل کے درمیان رابطہ زیادہ بہتر نہیں ہے ، اور نئی نسل کے لئے کوئی زندہ رول ماڈل (عملی نمونہ) دستیاب نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جاپانی نومسلموں اور نئی نسل کی تعلیم کے لئے نصاب وغیرہ کی تیاری میں جاپانی مسلمانوں کو آگے بڑھنا ہوگا ۔

سیمینار کا تیسرا مقالہ ’جاپان میں مسجد نیٹ ورک‘ کے موضوع پر تھا ، جو سعودی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل جاپانی عالم ، سلیمان ہاماناکا نے پیش کیا ۔  انہوں نے بتایا کہ جاپان میں پہلی مسجدسنہ ۱۹۳۵ میں تعمیر ہوئی ۔ اس کے بعد ۸۰ کی دہائی تک کچھ اور مساجد تعمیر ہوئیں ۔ لیکن مساجد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ۸۰ کی دہائی کے اواخر سے شروع ہو ، اور اب الحمد للٰہ جاپان میں مساجد اور مصلوں کی تعداد ایک سو کے قریب ہے ۔ جناب ہاماناکا نے کہا کہ مساجد کو نو مسلموں اور نئی نسل کے لئے تعلیمی مرکز کا کردار بھی ادا کرنا چاہئے ، بلکہ عام جاپانیوں تک اسلام کا پیغام بھی پہنچانا چاہئے ۔ لیکن آنے والے جاپانیوں کے استقبال اور ان کے سوالات کے جوابات کا ہر مسجد کا اپنا انداز ہے ۔ بعض مقامات پر جاپانیوں کو عمدہ طریقے سے اسلام کے بارے میں بتانے والے افراد موجود ہیں ، لیکن ہر جگہ ایسا نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جاپان کی تمام مساجد کا ایک نیٹ ورک ہونا چاہئے ، جو مرکزی طور پر بنیادی نصاب کی تیاری ، اور دعوت کے کام کے لئے افراد کو تیار کرے ۔انہوں نے نو مسلموں کے لئےتقریباً دس کلاسوں پر مشتمل ایسا مرکزی کورس بنانے کی بھی تجویز دی ،جو نو مسلم اپنی سہولت کے لحاظ سے کسی بھی مسجد میں اٹینڈ کرسکیں ۔ اس کے علاوہ کسی مسلمان کے انتقال کے وقت کے انتظامات کی تربیت پر بھی زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی طور پر ایسے کام کرنے سے ہر مسجد کو فائدہ ہوگا ، تمام مساجد کے متعلقہ افراد ، ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکیں گے ۔

پینل ڈسکشن میں ، مختلف شرکاء نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ جناب عبدالقادر اوباری نے کہا کہ ہر مسلمان اسلام کا میڈیا ہے ، چنانچہ اسکا کردار ایسا ہونا چاہئے جس سے جاپانیوں کو اسلام کی درست معلومات مل سکیں ۔

جاپان مسلم ایسوسی ایشن کے سابق سربراہ جناب ہگوچی (Higuchi) نے بتایا کہ انہیں اسلام قبول کئے تقریباً نصف صدی گزر چکی ہے ۔انہوں نے چالیس پچاس سال قبل جاپانی معاشرے میں مسلمانوں کو پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کیا ۔ایسوسی ایشن کے کردار کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اس تنظیم نے جاپانی مسلمانوں کو ایسے وقت میں عرب ممالک میں اسلام کی اعلٰی تعلیم کے لئے بھیجا ، جب جاپان سے تعلیم کے لئے باہر جانا انتہائی مشکل تھا ۔ آج جو کچھ جاپانی علماء دین موجود ہیں ، وہ انہی کوششوں کا نتیجہ ہیں ۔

پینل ڈسکشن کے اختتام پر ، حاضرین کو بھی تبصرے اور سوالات کا وقت دیا گیا ۔ انٹرنیشنل مسلم سینٹر کے جناب عبدالرحمٰن صدیقی ، یاشیو مسجد کے جناب سلیم ساندھا ، یوکوہاما مسجد کے جناب الطاف غفار ، اور اوہاناجایا مسجد اور اوساکا مسجد کے نمائندوں نے اپنے اپنے تاثرات بیان کئے۔ سیمینار کے اختتام پر ، واسیدا یونیورسٹی کےکلیہ انسانی سائنس کے پروفیسر ہیروفومی تنادا نے تمام شرکاء اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا ۔

سیمینار کے دوران ، نماز ظہر اور نماز عصر کے لئے وقفے دئے  گئے اور نماز کے لئے الگ کمرے کا انتظام کیا گیا تھا  ۔