نیٹ پر اردو کی ترویج  اور ہماری ذمہ داریاں

 

آج کل انٹرنیٹ پر اردو خاصی استعمال ہورہی ہے، جو فروغ اردو کے لیے یقیناً خوش آئند بات ہے۔ لیکن اس میں دو مسائل بھی ہیں۔ ایک اردو کی رومن حروف میں لکھائی، اور دوسرے ہجے یا قواعد (گرامر) کی غلطیاں۔ ہر زبان کا اپنا ایک رسم الخط ہوتا ہے، جو اس کی شناخت بھی ہوتا ہے۔ رومن (انگریزی) حروف میں اردو لکھنا تو گویا ’زبان غیر سے شرح آرزو‘ کرنے والی بات ہے۔پھر رومن اردو کے لیے کوئی باقاعدہ اصول تو ہیں نہیں، اس لیے ہر شخص ہر لفظ کے لیے اپنی مرضی کے اسپیلنگ اختیار کرتا ہے۔ اکثر اوقات رومن اردو سے گزارا تو ہوجاتا ہے، لیکن بہرحال اس میں ایک تشنگی بھی رہ جاتی ہے۔ اور اکثر اوقات بات سمجھنے میں بھی خاصی مشکل ہوتی ہے۔ خصوصاً جب بات لمبی ہو، تو رومن میں پڑھنے سے ایک تھکاوٹ اور بیزاری بھی محسوس ہوتی ہے۔
آج کل کمپیوٹر کے کسی بھی پروگرام کے ذریعے اردو میں کام کرنا، یا ای میل ، یا سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس (فیس بک، ٹویٹر وغیرہ) پر اردو لکھنا انتہائی آسان ہوچکا ہے۔ صرف اردو کی بورڈ ڈاؤن لوڈ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، جو نیٹ پر ہی مفت دستیاب ہے۔بعض لوگ کسی تکنیکی مجبوری کے باعث انگریزی حروف والی اردو لکھتے ہیں، لیکن کئی لوگ صرف سستی اور کاہلی کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔ ’سب چلتا ہے‘ یا ’بات سمجھ آگئی‘ جیسے فقرے ہمارا قومی مزاج بنتے جارہے ہیں۔ ہم ہر محفل اور ہر تحریر میں دوسروں پر تنقید کرتے ہیں، حکومتی اہلکاروں کی بدعنوانیوں اور نااہلی کا رونا روتے ہیں، لیکن خود کچھ کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ اردو میں رومن حروف میں لکھنا بھی دراصل کام چلاؤ یا ڈنگ ٹپاؤ سوچ کا ہی ایک مظہر ہے۔ حالانکہ اردو کی بورڈ ڈاؤن لوڈ کرنا صرف چند منٹوں کا کام ہے۔ جو لوگ کمپیوٹر کے ماہر نہیں ہیں انہیں یقیناً کچھ مشکل پیش آسکتی ہے، لیکن وہ بھی آدھے گھنٹے میں یہ کام کرسکتے ہیں۔ اور ایسے لوگ اپنے ارد گرد موجود افراد میں سے کسی کی مدد بھی لے سکتے ہیں۔ اصل بات سوچ اور ارادے کی ہے۔
اسی طرح اردو رسم الخط میں لکھنے والوں کی غلط سلط اردو بھی ایک مسئلہ ہے۔ یقیناً ہر شخص ادبی مزاج کا نہیں ہوتا۔ کسی کی تعلیم کم ہوتی ہے۔ اور کسی نے عرصے سے اردو لکھی نہیں ہوتی اس لیے ہجےاور گرامر کی غلطیاں ہوتی ہیں۔ لیکن اس معاملے میں بھی بہت سے لوگ  سستی یا کاہلی کی وجہ سے غلطیاں کرتے ہیں۔ اگر آپ کا ارادہ اچھی اردو لکھنے کا ہو، تو  یہ بہرحال اتنا مشکل کام نہیں ۔ لیکن جو لوگ اسے اہمیت ہی نہیں دیتے، اور ’سب چلتا ہے‘ والی سوچ رکھتے ہیں، وہ ساری زندگی ایسے ہی رہتے ہیں۔ نہ ان کی اردو کبھی ٹھیک ہوتی ہے، اور نہ کوئی اور زبان۔ بلکہ زبان سے ہٹ کر وہ زندگی کے ہر معاملے میں ادھورے ہی رہتے ہیں۔
اردو پاکستان کی قومی زبان بھی ہے، اور دوسرے پاکستانیوں کے ساتھ رابطے کا ذریعہ بھی۔ اس کا فروغ بھی ملک سے محبت کا ایک تقاضا ہے۔ کوشش کریں کہ نیٹ پر دوسرے پاکستانیوں کے ساتھ رابطے کے لیے اصلی اردو حروف  کے ساتھ خوبصورت اردو لکھیں۔ جن افراد کو اس سلسلے میں تکنیکی مشکلات درپیش ہیں، ان کے لیے نیچے ایک لنک دیا جارہا ہے۔ مذکورہ سائٹ، انٹرنیٹ پر اردو کے فروغ کے لیے قابل قدر کام کر رہی ہے۔ اس سائٹ پر اردو فونٹ، اور اردو کی بورڈ کی فائلیں بھی دستیاب ہیں، اور ان کو ڈاؤن لوڈ اور انسٹال کرنے کے طریقے بھی دئے ہوئے ہیں۔

 
http://www.urdu.ca