ٹوکیو یونیورسٹی میں نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس پرJMPF  کا پانچواں سیمینار

رپورٹ : طیب خان

عالمی شہرت یافتہ امریکی اسکالر ،  مبلغ اسلام اور گائیڈ اَس ٹی وی (Guide US TV) کے بانی،  جناب یوسف ایسٹیس، آج کل جاپان مسلم پیس فیڈریشن (JMPF ) کی دعوت پر جاپان کے 6 روزہ دورے پر تشریف لائے ہوئے ہیں۔ یوسف ایسٹیس ، ایک کٹر عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئے اور ان کی پرورش سخت عیسائی ماحول میں ہوئی۔ جوانی میں ایک عرب مسلمان کو عیسائی بنانے کی کوشش کرتے ہوئے ان کے دلائل کی حقانیت سے مسلمان ہوگئے۔ اس کے بعد سے  گزشتہ ربع صدی سے وہ دنیا کے کونے کونے میں اسلام کا پیغام پہنچانے کی انتھک کوششیں کررہے ہیں۔
جاپان میں ان کے دورے میں پہلا پروگرام جمعہ 12 اکتوبر کو جنوبی جاپان کے شہر فوکواوکا (Fukuoka) میں ہوا، جہاں انہوں نے فوکواوکا مسجد میں جمعہ کا خطبہ دیا ، اور شام کو کیوشو یونیورسٹی (Kyushu University) میں خطاب کیا۔ راقم اس پروگرام میں موجود نہیں تھا، لیکن اطلاعات کے مطابق اس میں کوئی 350 افراد موجود تھے، جن کی اکثریت جاپانی و غیرملکی طلباء پر مشتمل تھی۔
ٹوکیو میں ان کا پہلا پروگرام منامی اوتسکا (Minami Otsuka) ہال میں منعقد ہوا، جس میں اندازاً 400 کے قریب افرادان کو دیکھنے و سننے کے لیے شریک ہوئے۔ ان میں جاپانی و غیرجاپانی، مسلم و غیر مسلم سبھی شامل تھے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ مٹی اسلام کے پودے کی آبیاری کے لیے بڑی ذرخیز ہے،  کیونکہ مقامی نوجوانوں میں اسلامی تعلیمات حاصل کرنے اور سمجھنے کا شوق و جذبہ بڑھ رہا ہے۔ JMPF کے پلیٹ فارم سے دعوت دین کا یہ کام انتہائی قابل تحسین ہے، اور ہم سب کو ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان سے ہر ممکن تعاون کرنا چاہئے۔
مہمان مقرر  کا خطاب اور سوالات کے جوابات انگریزی میں تھے، جن کا جاپانی ترجمہ JMPF کے کوآرڈینیٹر(منتظم اعلیٰ)  محمد انور میمن نے کیا۔ یہ کافی محنت طلب اور مشکل کام، انہوں نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیا۔ جاپانی ان کی مادری زبان نہ ہونے اور وقت کی کمی کے باعث، تھوڑی بہت غلطیاں تو یقیناً ہوئی ہوں گی، خصوصاً ’’محرم‘‘ کے جاپانی ترجمے میں تشنگی رہی۔  لیکن مجموعی طور پر پروگرام  بہت بہتر تھا۔ جناب یوسف ایسٹیس نے بہت دلچسپ گفتگو کی جس سے حاضرین بہت محظوظ ہوئے، اور ان کی پروگرام میں دلچسپی قائم رہی۔انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں صرف ایک ہی نام ’’مسلم‘‘ دیا ہے۔ دوسرے نام تو  ہم نےاپنے طور پر رکھ لئے ہیں، چنانچہ ہمیں خود کو صرف مسلمان ہی کہنا چاہئے۔ علامہ اقبال نے بھی کیا خوب کہا ہے، ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بنیاد پرست کا لفظ مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ تاریخی طور پر عیسائیوں کے لیے استعمال ہوتا آیا ہے۔ حال ہی میں نبی کریم ﷺ کی توہین پر مبنی گستاخانہ وڈیو کا خالق بھی ایک بنیاد پرست عیسائی ہے۔ پروگرام کے بعد قریبی اوتسکا مسجد میں نماز عشاء ادا کی گئی، جہاں جاپان اسلامک ٹرسٹ کے تعاون سے کھانے کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔

اگلے روز 14؍ اکتوبر بروز اتوار، ٹوکیو یونیورسٹی میں JMPF کا 5واں سالانہ سیمینار منعقد کیا گیا، جس کے مہمان خصوصی جناب یوسف ایسٹیس ، جبکہ ایک اور کلیدی مقرر جاپان کی مشہور کیئو یونیورسٹی (Keio Univwrsity) کے پروفیسرکمال اوکُودا(Prof. Okuda) تھے۔علم کی پیاس رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے اس میں شرکت کی۔ یہ سیمنار بنیادی طور پر جاپانیوں کو نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس اور اسلام سے روشناس کروانے کے لیے منعقد کیا جاتا ہے، اور اس کے لیے زیادہ سے زیادہ  جاپانی باشندوں کو مدعو کیا جاتا ہے، تاہم ہر سال اس سیمینار میں مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد بھی شرکت کرتی اور اس سے مستفیض ہوتی ہے۔ اس سال کے سیمنار میں حاضرین کی تعداد  لگ بھگ 400 تھی۔ماحول بہت زیادہ علمی تھا، اور حاضرین نے نہایت توجہ سے مقررین کے خطابات سنے۔ جناب یوسف ایسٹیس نےاپنے خطاب کے بعد تحریری سوالات کے نہایت مدلل جوابات بھی دئے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دوسرے مذاہب میں اللہ کا تصور خیالی ہے، اور یہودیوں کے پاس  تو خدا کا کوئی نام بھی نام نہیں ہے، جبکہ دین اسلام میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حقانیت کے واضح دلائل موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں کئی غیر مسلم تو صرف ایک آیت ’’ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم‘‘ کی معنویت کی وجہ سے ہی مسلمان ہوگئے۔
سیمینار ایک بجے سے پانچ بجے تک جاری رہا۔ اس کامیاب سیمینار کے انعقاد کے لیے جناب محمد انور میمن اور ان کے تمام ساتھی نہایت مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو اجر عظیم عطا فرمائے۔   آمین۔