جاپان میں تاریخ کا سب سے شدید زلزلہ

 

 

ٹوکیوجاپان میں جمعہ 11 مارچ کو دوپہر 2 بجکر 46 منٹ پر انتہائی شدید زلزلہ آیا ۔ زلزلے کا مرکز شمال مشرقی جاپان کے میاگی پریفیکچر کے قریب سمندر میں 25 کلومیٹر گہرائی میں تھا ۔ جاپانی محکمہ موسمیات کے مطابق، رکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 8.8 تھی ، تاہم مغربی میڈیا میں زلزلے کا میگنیٹیوڈ 8.9 بتایا جارہا ہے ۔ جاپان میں 19ویں صدی کے اواخر سے زلزلے کی شدت کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کیا جارہا ہے ۔ اس ایک صدی سے کچھ زائد عرصے کے دوران کا یہ سب سے شدید زلزلہ ہے ۔

زلزلے کا مرکز بنیادی طور پر شمال مشرقی جاپان تھا ، تاہم زلزلے کے شدید جھٹکے پورے ملک میں محسوس کیے گئے ۔ زلزلے کا منبع سمندر میں ہونے کے باعث جاپان کے تمام ساحلوں کے لیےسونامی کا انتباہ جاری کیا گیا تھا ۔  زلزلے کےمرکز کے قریبی علاقوں ، میاگی ، ایواتے اور فوکوشیما پریفیکچروں میں زلزلے سے ہونے والی تباہی کے بعد، 7 میٹر سے زائد سونامی لہروں سے بھی شدید تباہی ہوئی ہے ۔ اباراکی پریفیکچر کے اوارائی علاقے میں بھی 4 میٹر سے بلند سونامی لہریں ریکارڈ کی گئی ہیں ۔ جاپان کے علاوہ  چین اور روس کے بعض ساحلی علاقوں ، اور امریکہ کی ریاست ہوائی وغیرہ میں سونامی وارننگ جاری کی گئی ہے ۔

دوپہر کے زلزلے کے بعد بھی تقریباً سارا دن اور ساری رات، مختلف علاقوں میں زلزلے کے مزید جھٹکے آتے رہے ۔ ہفتے کو علی الصبح ناگانو اور نیگاتا پریفیکچروں میں بھی زلزلہ آیا ہے ۔

زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر خطے میاگی پریفیکچر کے سیندائی شہر میں کئی پاکستانی بھی رہائش پذیر ہیں ۔ تاہم فون کا نظام تقریباً ناکارہ ہوجانے کے باعث اکثریت کی خیریت کی تصدیق نہیں کی جاسکی ہے ۔ ہفتے کی صبح  تک کی اطلاعات کے مطابق شمال مشرقی جاپان کے علاوہ ، بقیہ خطوں خصوصاً ناگانو اور نیگاتا پریفیکچروں میں رہائش پذیر پاکستانیوں کو کسی بڑے نقصان کا سامنا نہیں ہے ، تاہم اباراکی اور چیبا پریفیکچروں میں مقیم بعض پاکستانیوں کے گھروں کے شیشے ٹوٹنے اور سامان گرنے جیسے واقعات ہوئے ہیں ۔اباراکی پریفیکچر میں چند پاکستانیوں کے گھروں کو شدید نقصان پہنچنے کے باعث ، رات گاڑیوں میں گزارنی پڑی ۔ لیکن اب تک کسی پاکستانی کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔

اللہ تعالیٰ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔