جاپان میں یوم پاکستان

 

پاکستان کا قیام ، قرارداد پاکستان کا مرہون منت ہے ، جو ۲۳ مارچ سنہ ۱۹۴۰ کو لاہور میں منظور کی گئی تھی ۔ اور اسی لئے بجا طور پر ۲۳ مارچ کو یوم پاکستان قرار دیا گیا ہے ۔ پاکستان میں بھی ، اور دنیا میں جہاں جہاں بھی پاکستانی آباد ہیں ، وہاں یہ دن جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے ۔

جاپان میں بھی ہر سال ۲۳ مارچ کو یوم پاکستان منایا جاتا ہے ۔ روایتی طور پر اس سلسلے میں دو تقاریب ، سفارت خانہ پاکستان منعقد کرتا ہے ۔ ایک عوام کے لئے صبح کی تقریب ، اور دوسرا شام کو خواص کے لئے استقبالیہ ۔ صبح کی تقریب سفارت خانے کی عمارت میں منعقد کی جاتی ہے ، جس میں قومی ترانے کے ساتھ پرچم کشائی ہوتی ہے ۔ سفیر پاکستان کے خطاب کے ساتھ ، وزیر اعظم پاکستان اور صدر پاکستان کے پیغامات پڑھ کر سنائے جاتے ہیں ۔ اس کے بعد ناشتے کا انتظام ہوتا ہے ۔ اس طرح یہ تقریب ۲۳ مارچ کی قرارداد پاکستان کی یاد بھی دلاتی ہے ، اور جاپان میں مقیم پاکستانیوں کے میل ملاپ کا ایک وسیلہ بھی ثابت ہوتی ہے ۔ شام کا استقبالیہ بنیادی طور پر کمیونٹی میں سرگرم پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ ، جاپانی سرکاری اہلکاروں اور دیگر ممالک کے سفارتی عملے وغیرہ کے لئے ہوتا ہے ۔ اس کا مقصد بھی یوم پاکستان کے حوالے سے ، پاکستان کے تصور کو اجاگر کرنا ہوتا ہے ۔

جاپان میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے ہر سال یوم آزادی تو نہایت جوش و خروش کے ساتھ باقاعدگی سے منایا جاتا ہے ، لیکن یوم پاکستان کے حوالے سےکوئی گہما گہمی دیکھنے میں نہیں آتی ۔

سال رواں ، یعنی سنہ ۲۰۱۰ میں جاپان میں وطن عزیز کا سفارت خانہ ، ’یوم پاکستان‘ نہیں بلکہ ’ہفتہ پاکستان‘ منا رہا ہے ۔ یہ نہایت خوش آئند پیش رفت ہے ۔ یوم آزادی اور یوم پاکستان جیسے قومی تہوار ، یقیناً ہم پاکستانیوں کو تشکیل پاکستان کے مقصد کی یاد دلاتے ہوئے ، کمیونٹی کے اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ، یہ مواقع غیرممالک کے لوگوں کو پاکستان کے تصور ، اس کی تاریخ ، جغرافیہ اور ثقافت سے روشناس کروانے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔

اس سال جاپان میں ہفتہ پاکستان کی تقریبات کا پہلا پروگرام ،  ۲۰ اور ۲۱ مارچ کو سفارت خانے میں ایک تصویری نمائش ہے ۔ پاکستانی فوٹوگرافرز کی کھینچی ہوئی ، پاکستان کی تصاویر کی یہ نمائش جاپانی  باشندوں کو پاکستان اور اس کی ثقافت سے روشناس کروانے کے لئے ایک اچھا قدم ہے ۔

۲۳ مارچ کی صبح ، سفارت خانے میں حسب معمول پرچم کشائی کی تقریب ہوگی ، جس میں ہر پاکستانی بلکہ پاکستان سے محبت رکھنے والے جاپانی و دیگر غیرملکی بھی شرکت کر سکتے ہیں ۔ ماضی میں اس تقریب میں پاکستانی خواتین کی ایک مختصر تعداد شرکت کیا کرتی تھی ، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ مکمل طور پر مردوں کا ایونٹ بن چکا ہے ۔ یوم پاکستان اور یوم آزادی کی تقریبات میں ، جاپان میں مقیم پاکستانی خواتین کو بھی شرکت کرنی چاہئے ۔ یقیناً ان کی شرکت پر اس وقت بھی کوئی پابندی نہیں ہے ، لیکن اسے ممکن بنانے کے لئے سفارت خانے کو شعوری کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔

سفارت خانہ پاکستان کی جانب سے حسب معمول۲۳ مارچ کی شام کو استقبالیے کا پروگرام بھی ہے ، تاہم جگہ کی قلت اور دیگر مسائل کے باعث یہ صرف مخصوص مدعوئین کے لئے ہوگی ۔

اگلے روز یعنی ۲۴ مارچ کو سفارت خانے میں پاکستان کے حوالے سے ایک شام مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ اس میں شعراء کرام پاکستان کے حوالے سے اپنا کلام پیش کریں گے ۔ جاپان میں نجی طور پر ، یا اردو کی تعلیم دینے والی جامعات میں تو اردو مشاعروں کی روایت موجود ہے ، تاہم سفارت خانہ پاکستان کی جانب سے مشاعرے کا پروگرام ، ایک نئی لیکن مثبت پیشرفت ہے ۔

ہفتہ پاکستان کے حوالے سے سفارت خانے کی جانب سے ۲۷ اور ۲۸ مارچ کو ٹوکیو کے اوئینو پارک میں پاکستان بازار کا انعقاد بھی کیا گیا ہے ۔ ٹوکیو کا یہ وسیع و عریض پارک بین الاقوامی طور پر مشہور پارک ہے ، جس کے ایک حصے میں چڑیا گھر بھی واقع ہے ۔ اس کے علاوہ یہ پارک چیری کے درختوں کے لئے بھی مشہور ہے ۔ جاپان میں موسم بہار میں ’ہانامی‘ کی روایت ہے ، جس پر کم و بیش ہر جاپانی عمل کرتا ہے ۔ ہانامی کے لغوی معنی ہیں ، پھول دیکھنا ۔ لیکن عام طور پر یہ لفظ ، موسم بہار میں چیری کے پھولوں سے لطف اندوز ہونے کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ ہانامی کے لئے ایسے مقامات زیادہ مقبول ہیں ، جہاں ایک ساتھ چیری کے کئی درخت قطاروں میں لگے ہوں ۔ جاپانی باشندے ، بلکہ اب تو پاکستانیوں سمیت غیرجاپانی باشندے بھی موسم بہار کے چھٹی کے دنوں کو استعمال کرتے ہوئے ہانامی کے لئے نکلتے ہیں ۔ پھول دیکھنا تو ایک بہانہ ہے ، ورنہ یہ روایت دراصل فطرت کی رنگینیوں سے لطف اندوز ہونے کی ہے ۔

ٹوکیو میں مارچ کے وسط سے اواخر کا موسم ہانامی کے لئے بہترین تصور کیا جاتا ہے ، جب ساکورا یعنی چیری کے پھول اپنے جوبن پر ہوتے ہیں ۔ ۲۷ اور ۲۸ مارچ کو ٹوکیو کے اوئینو پارک میں ہانامی کے لئے جاپانی باشندوں کا ایک جم غفیر متوقع ہے ۔ اس لحاظ سے یہ پاکستان بازار ، جاپانیوں کو پاکستان سے روشناس کروانے کا ایک انتہائی نادر موقع ہے ۔تاہم اس سلسلے میں پاکستان کے سفارت خانے اور میلے کے منتظمین کے ساتھ ساتھ عام پاکستانیوں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس موقع کو مثبت طور پر استعمال کیا جائے ۔

موسم بہار میں اوئینو پارک میں پاکستانی میلے کا انعقاد ایک دو دھاری تلوار ہے ۔ ہم اس موقع پر پاکستان کا نام روشن بھی کر سکتے ہیں ، لیکن ہماری غلط حرکات یا بدنظمی پاکستان کے ماتھے کا بدنما داغ بھی بن سکتی  ہے ۔

یوم پاکستان کی مناسبت سے اس سال سفارت خانہ پاکستان کی جانب سے ہفتہ پاکستان کی تقریبات بھی ایک اچھی پیشرفت ہے ، تاہم اس سلسلے میں ایک خوشگوار اضافہ ، ۲۲ مارچ کی شام کو پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے ہونے والا پروگرام ہے ۔ جاپان میں ۲۲ مارچ ، موسم بہار کے حوالے سےعام تعطیل ہے ، چنانچہ کمیونٹی پروگرام کے لئے اس دن کا انتخاب کیا گیا ہے ۔

دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں پاکستانیوں کی کئی تنظیمیں قائم کی گئی ہیں ، تاہم  ’پاکستان ایسوسی ایشن‘ کے نام سے ایک مرکزی تنظیم بھی اکثر ممالک میں ہوتی ہے ۔جاپان میں بھی برسوں قبل ’پاکستان ایسوسی ایشن جاپان‘ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی گئی تھی ، جو وقت کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کی سیاست کی نظر ہو کر تین دھڑوں میں تقسیم ہو چکی تھی ۔ سال گزشتہ ، جاپان میں مقیم پاکستانیوں کے لئے اس لحاظ سے اچھا سال تھا کہ اس میں کمیونٹی کے دباؤ سے لیکر حالات کے جبرتک کی مختلف وجوہات کے تحت تینوں دھڑوں کو تحلیل کردیا گیا ۔ ایک مشترکہ پاکستان ایسوسی ایشن کے قیام کے لئے اس سال کے آغاز میں الیکشن کمیشن تشکیل دیا گیا ، جسے مشترکہ و متحدہ ایسوسی ایشن کے انتخابات کا ٹاسک دیا گیا ۔ پاکستان ایسوسی ایشن جاپان کے انتخابات گیارہ اپریل کو ہونے ہیں ۔ کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے ،  اور عنقریب  الیکشن کمیشن کی جانب سے امیدواروں کی حتمی فہرست کا اجراء متوقع ہے ۔ انتخابی مہم زوروں پر ہے ، اور امیدوار مختلف علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں ۔ بنیادی طور پر یہ غیر جماعتی انتخابات ہیں ، لیکن امیدواروں نے اپنے اپنے پینل تشکیل دئے ہوئے ہیں ، اور اپنے پورے پینل کے لئے ووٹ کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔

ووٹ کسے دیا جائے ؟ ہر شخص کا اس بارے میں نظریہ مختلف ہو سکتا ہے ، لیکن عمومی طور پر لوگ اسے ووٹ دینا چاہتے ہیں ، جس کے بارے میں انہیں یقین ہو کہ وہ ان کے یا کمیونٹی کے کام آئے گا ۔انتخابی امیدوار ، منتخب ہو کر کیا کرنا چاہتے ہیں ؟ ان کے اہداف کیا ہیں ؟ اور ان اہداف کے حصول کے لئے وہ کیا طریقہ کار اختیار کرنا چاہتے ہیں ؟  ان سب نکات کے مجموعے کو منشور کہا جاتا ہے ۔ کسی ملک یا تنظیم کے انتخابات میں ، امیدوار اپنا اپنا منشور پیش کرتے ہیں ، جس سے رائے دہندگان کو اپنا ذہن بنانے میں مدد ملتی ہے ۔ پاکستان ایسوسی ایشن جاپان کے کچھ امیدواروں نے نیٹ اخبارات کے ذریعے اپنا منشور عوام کے سامنے پیش کیا ہے ، اور کچھ براہ راست تقاریر کے ذریعے پیش کر رہے ہیں ۔

یوم پاکستان کی مناسبت سے ۲۲ مارچ کو منعقد ہونے والے جلسے کا انتظام ، پاکستان ایسوسی ایشن جاپان کے الیکشن کمیشن نے کیا ہے ۔ ایک طرف جہاں اس کا مقصد پاکستان کی تشکیل کے مقاصد کی یاددہانی ہے ، وہیں اس جلسے کا ایک مقصد صدارتی امیدواروں کو اپنا منشور پیش کرنے کا موقع فراہم کرنا بھی ہے ۔جاپان کی پاکستانی کمیونٹی کی تاریخ میں غالباً یہ پہلا موقع ہوگا ، جب ایک مشترکہ پلیٹ فارم سے ، حریف امیدوار اپنا اپنا منشور عوام کے سامنے پیش کریں گے ۔ یہ ایک خوشگوار روایت کا اضافہ ہے ، جو مستقبل میں بھی جاری رہنا چاہئے ۔

آئیے ہم سب مل کر جاپان میں یوم پاکستان کے حوالے سے ہونے والے ان تمام پروگراموں میں زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنا کر ، اور نظم و ضبط کے ساتھ ان کا انعقاد کرکے ، ان پروگراموں کو کامیاب بنائیں ۔       پاکستان زندہ باد ۔