یوم پاکستان کے موقع پر سفارت خانہ پاکستان میں پرچم کشائی کی تقریب

 

یوم پاکستان کے موقع پر، سفارت خانہ پاکستان  واقع ٹوکیو میں ہر سال کی طرح امسال بھی 23 مارچ کو پرچم کشائی کی تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب میں پاکستان کمیونٹی کی شرکت گزشتہ سالوں سے کچھ کم رہی۔خصوصاً نامور سیاسی شخصیات کی کم تعداد نے شرکت کی، جس کی ایک وجہ ناخوشگوار موسم ہوسکتی ہے۔

تقریب کے لیے ہمیشہ کی طرح امسال بھی سفارت خانے کی جانب سے پونے دس بجے کا وقت دیا گیا تھا، لیکن اس بار کی تقریب 45 منٹ کی تاخیر سے ساڑھے دس بجے شروع ہوئی۔ وقت پر آئے ہوئے لوگ، ہلکی بارش میں سفارت خانے کے صحن میں تقریب کے آغاز کا انتظار کرتے رہے، لیکن تقریب پاکستان سے آئے ہوئے وزراء کی آمد کے بھی بعد، سینئر وزیر جناب امین فہیم کی آمد پر شروع ہوئی۔ غالباً تقریب میں تاخیر کی وجہ وزیر موصوف کی دیر سے آمد ہی تھی، تاہم سفارتخانے کے سیکنڈ سیکرٹری جناب ندیم احمد بھٹی نے معذرت کے بعد تاخیر کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ دور سے آنے والے کچھ دوستوں نے فون پر انہیں بتایا ہے کہ وہ ٹریفک میں پھنسنے کے باعث کچھ دیر سے پہنچیں گے، چنانچہ تمام پاکستانیوں کی شمولیت یقینی بنانے کے لیے کچھ تاخیرکی گئی۔ (یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ خصوصی افراد کون تھے، اور کیا کوئی بھی عام پاکستانی اس طرح فون کرکے سفارتخانے کی تقریب رکوا سکتا ہے، یا یہ حق کچھ مخصوص افراد کو ہی حاصل ہے)۔ہم قائد اعظم محمد علی جناح کے کردار کا ذکر تو بہت کرتے ہیں، لیکن ہر سرکاری تقریب کو انتہائی سختی کے ساتھ وقت پر شروع کرنے کی، ان کی انتہائی بہترین عادت کی تقلید، یوم پاکستان جیسے موقع پر بھی نہیں کرسکتے۔

تقریب کا آغاز عبدالرحمٰن صدیقی صاحب کی تلاوت کلام پاک اور اردو ترجمے  سے ہوا۔ اس کے بعد قومی ترانے کے ساتھ پرچم بلند کیا گیا۔ پرچم کشائی کے بعد کی تقریب حسب معمول سفارخانے کے ہال میں منعقد کی گئی۔ سفیر پاکستان نے تمام پاکستانیوں کو یوم پاکستان کی مبارکباد دینے اور ان کی آمد کا شکریہ ادا کرنے کے بعد، صدر پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان کے پیغامات پڑھ کرسنائے۔ پیغامات کے بعد پاکستان سے آئے ہوئے وزیر تجارت جناب امین فہیم نے خطاب کیا ۔آخر میں قاری علی حسن نے پاکستان کے استحکام اور ترقی کے لیے مختصر دعا کی۔

تقریب کے بعد ، آلو چھولوں، پکوڑوں اور چائے سے حاضرین کی تواضع کی گئی۔حاضرین محفل ان چیزوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے وزراء اور پاکستان سے آئے ہوئے دیگر معززین سے بات چیت کرتے رہے۔ خصوصاً سینئر وزیر جناب امین فہیم کو کمیونٹی نے مسلسل  گھیرے میں لیے رکھا اور ان سے مختلف سوالات کرتے رہے۔کوئی ساڑھے گیارہ بجے، پرچم کشائی کی یہ تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔