سفارتخانے کے تحت پاکستان ایسوسی ایشن جاپان کےانتخابات غیر معینہ مدت تک ملتوی

 

سفارتخانہ پاکستان واقع جاپان نے ’پاکستان ایسوسی ایشن جاپان‘ کے اگلے انتخابات  خود منعقد کروانےکا اعلان کیا تھا۔16 نومبر کو میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے سفارتکانے کے ڈپٹی چیف آف مشن جناب اسد گیلانی نے کہا تھا کہ یہ انتخابات جنوری 2013 کے اواخر یا فروری 2013 کے آغاز میں منعقد کئے جائیں گے۔ امیدواروں کی رجسٹریشن کے لیے 14 دسمبر، جبکہ ووٹر وں کی رجسٹریشن کے لیے 21 دسمبرکی حتمی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔سفارتخانے کی جانب سے کمیونٹی انتخابات خود منعقد کروانے کے فیصلے کو جہاں کچھ حلقوں نے پسند کیا، وہیں ان کی مخالفت میں بھی کئی آوازیں اٹھیں۔ ان کا استدلال ہے کہ یہ سفارتخانے کا کام نہیں ہے، اور کمیونٹی کی ایک تنظیم کے انتخابات  کا زبردستی انعقاد، کمیونٹی کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت ہے۔ بعض افراد نے تو اس عمل کو پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی تک قرار دے دیا۔

تاہم، اب سفارتخانے کے نئے اعلان کے مطابق،امیدواروں اور ووٹروں کے رجسٹریشن کی تاریخ میں 30 جون 2013 تک توسیع کردی گئی ہے۔ انتخابات کی نئی تاریخ کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ گویا عملاً ان انتخابات کو غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔انتخابات کے اعلان کی طرح، التواء کے اس اعلان پر بھی کمیونٹی میں حمایت اور مخالفت میں آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ سفارتخانے کی جانب سے کمیونٹی کے ’مشوروں‘ کی روشنی میں ضوابط میں تبدیلی، اور اب کمیونٹی کے مشوروں ہ کی روشنی میں التواء کا اعلان ظاہر کرتا ہے کہ انتخابات خود منعقد کروانے کا فیصلہ کرتے وقت نہ تو کمیونٹی سے مشاورت کی گئی تھی، اور نہ اس سلسلے میں مناسب ہوم ورک کیا گیا تھا۔

بنیادی طور پر یہ دو افراد، سفیر پاکستان اور ان کے نائب کا فیصلہ تھا۔ سفیر جناب جادمانی صاحب اپنی معینہ مدت مکمل کرکے جاپان سے واپس جاچکے ہیں، اور ان کے نائب گیلانی صاحب بھی عنقریب جاپان سے رخت سفر باندھنے والے ہیں۔ وہ اپنے بعد آنے والوں کے لیے ایک ایسا فیصلہ چھوڑ کر جارہے ہیں، جس میں وہ خود شامل نہیں تھے۔ اس بات کا بہت زیادہ امکان موجود ہے کہ نئے سفیر اور ان کا نیا عملہ یہ انتخابات نہ کروائے۔ تو کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ ان کو غیر واضح یا ہوا میں معلق چھوڑنے کی بجائے سفارتخانہ یہ تسلیم کرلے کہ یہ اس کا کام نہیں تھا، اور ان کو ترک کرنے کا باضابطہ اعلان کردے۔ اس اعلان میں سفارتخانے کی سبکی نہیں ہوگی۔کسی بھی غلط فیصلے سے  رجوع کرنا  کبھی توہین یا بے عزتی کا باعث نہیں بنتا۔ اور ویسے بھی خود اس فیصلے کے بعد سے سفارتخانے پر جو تنقید کی جارہی ہے، وہ اس کے لیے زیادہ بے عزتی کی بات معلوم ہوتی ہے۔

راقم کی تجویز ہے کہ سفارتخانہ پاکستان ان انتخابات کو منسوخ کرتے ہوئے، کمیونٹی کا ایک وسیع اجلاس بلائے اور اس میں کمیونٹی سےالیکشن کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کرے ۔ وہ الیکشن کمیشن ہی ضوابط کی تشکیل کا مجاز ہو، اور تمام کمیونٹی اور سفارتخانہ اس کمیشن کے تحت منعقدہ انتخابات کو تسلیم کرنے کا عہد کریں۔ الیکشن کے عمل کو شفاف اور تمام حلقوں کے لیے قابل قبول بنانے کے لیے سفارخانہ ان انتخابات کی مانیٹرنگ کرے۔ یہ سفارت خانے کا کمیونٹی کے لیے ایک مثبت اقدام ہوگا۔