پاکستان ایسوسی ایشن جاپان کہاں ہے ؟ ایک عام پاکستانی کا سوال ۔

محمد علی ۔ ٹوکیو ۔

پچھلے دنوں پاکستان ایسوسی ایشن جاپان کے الیکشن کے لئے کمیونٹی میں ایک اودھم مچا ہوا تھا ۔ تین پینل میدان میں تھے ، اور تینوں نے اپنے اپنے منشور میں پاکستانی کمیونٹی کے لئے بڑے بڑے کام کرنے کے وعدے کیے تھے ۔ لیکن اب ایسوسی ایشن کہاں ہے ؟
الیکشن کا مقصد یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اس سے تین دھڑوں کا خاتمہ ہوگا اور ایک متحدہ ایسوسی ایشن وجود میں آئے گی ۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا ۔ عبدالرحیم آرائیں کے پینل نے تو اپنی شکست تسلیم کرلی اور پاکستانی کمیونٹی کی نظر میں سرخرو ہوگئے ۔ لیکن شہزاد بہلم پینل الیکشن کمیشن کے فیصلے کو نہ مانتے ہوئے اپنےآپ کو جیتی ہوئی ایسوسی ایشن کے طور پر پیش کررہے ہیں ۔ لیکن انہیں صرف ایک پھنے خان صحافی** نے اپنی سائٹ پر زندہ رکھا ہوا ہے ۔ حالانکہ تمام صدارتی امیدواروں نے وعدہ کیا تھا اور اس بیان پر دستخط کیے تھے کہ وہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ مانیں گے ۔
ویسے شہزاد بہلم کمیونٹی کی فلاح کے کاموں میں حصہ لینے کے لئے مشہور ہیں اور اس کے لئے کافی خرچ بھی کرتے ہیں ۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ پیسے سے صدارت خریدیں ۔ جب الیکشن کمیشن کے چیئرمین نے ندا گروپ کو ونر قرار دیا ، تو بہلم کو بھی اس فیصلے کو قبول کرنا چاہئے ، اور اپوزیشن کا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرنا چاہئے ۔ ہارنے والے گروپ اگر اپوزیشن کا دباؤ برقرار رکھیں تو اگلے الیکشن میں ان کی جیت بھی ممکن ہے ، اور اس دوران بھی دباؤ کی وجہ سے ایسوسی ایشن کچھ کام کرنے پر مجبور ہوگی ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ شہزاد بہلم ایک اچھےفلاحی کارکن تو ہیں مگر اچھےلیڈر نہیں ہیں ۔ انہوں نے اپنی لگام ایک صحافی کے ہاتھ میں دے دی ہے ۔ لیڈر تو میڈیا کو مثبت طور پر استعمال کرتا ہے ۔ لیکن انہیں میڈیا استعمال کررہا ہے ۔ یہ کیسے لیڈر ہیں؟
اور جیتنے والی ایسوسی ایشن کہاں ہے ؟ کمیونٹی میں نظر ہی نہیں آتی ۔ الیکشن کے وقت تو لوگوں سے ملتے بھی تھے ، ان کو فون بھی کرتے تھے ، اور ای میل بھی بھیجتے تھے ۔ الیکشن کمپین کے لیے ایک ویب سائٹ پاکستان ایسوسی ایشن ڈاٹ جے پی بھی بنائی گئی تھی ، لیکن اب وہ سائٹ بھی ڈیڈ ہے ۔ کیوں ؟ حالانکہ انہیں جدید دور کی ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا چاہیے ۔پھر ان کے دو عہدیددار تو نہ کبھی الیکشن کے دوران نظر آئے اور نہ اس کے بعد ۔ اگر وہ اتنے مصروف ہیں تو انہیں فارغ کیجیے اور نئے عہدیدار چنیے ۔
پھر الیکشن کے وقت ایک شرط یہ تھی کہ جاپانی نیشنلٹی ہولڈر شخص الیکشن میں کسی عہدے کے لئے حصہ نہیں لے سکتا ۔ سننے میں آیا ہے کہ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری الطاف غفار نے الیکشن کے بعد جاپانی نیشنلٹی لے لی ہے ۔ تو کیا وہ اب پاکستانیوں کی نمائندگی کے لئے نااہل نہیں ہوگئے۔ ہوسکتا ہے کہ بعد میں نیشنلٹی لینے والے کو نااہل قرار دینے کے لئے الیکشن کمیشن کے پاس قانون نہ ہو ۔ لیکن انہیں اخلاقاً استعفیٰ دے دینا چاہئے ۔ کیونکہ جاپانی نیشنلٹی والے   افردکو الیکشن میں حصہ لینے سے اس لیے روکا گیا تھا کہ حکومت جاپان کے پاس پاکستانیوں کے مسائل کے لیے پاکستانی کو ہی نمائندگی کرنی چاہیے ۔ تواب وہ کیسے ہمارے نمائندگی کر سکتے ہیں ۔ انہیں کسی کے کہنے سے پہلے خود ہی استعفیٰ دینا چاہیے تھا ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ لوگ عہدہ مل جائے تو چھوڑنا نہیں چاہتے ۔ یہ ہمارے نام نہاد رہنما جب خود عہدیدار بن جاتے ہیں ، تو الیکشن بھی نہیں کروانا چاہتے ۔ چاہے وہ عہدہ کسی مسجد کا ہو یا کسی تنظیم کا ۔ بس ایک بار ملنے کے بعد اس سے چپک جاتے ہیں ۔
الیکشن کمیشن کو چاہئے کہ جاپانی نیشنلٹی والے الطاف غفار اور جاپان میں نہ رہنے والے شیخ عبداللہ اور نعیم شیخ کو برطرف کرے اور ان کی جگہ ضمنی الیکشن کرائے ۔ اگر ضمنی الیکشن کرانا مشکل ہو تو دوسرے نمبر پر آنے والوں کو وہ عہدے دئے جائیں ۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ ندا گروپ اور بہلم گروپ دونوں کے افراد کیبینٹ میں ہوں گے تو کمیونٹی میں اتحاد پیدا ہوگا ۔

نوٹ ۔ یہ ایک عام پاکستانی کے خیالات ہیں ، جو ہم نے مضمون کے متن میں کسی تبدیلی کے بغیر شائع کردئے ہیں ۔  صرف ہجے کی درستگی  کی گئی ہے ، اور ایک نام کو حذف کیا گیا ہے  ۔اگر پاکستان ایسوسی ایشن کے صدر  یا دیگر عہدیدار ، شہزاد بہلم یا عبدالرحیم آرائیں یا ان کے نمائندے ، یا کوئی بھی عام پاکستانی ، اس بارے میں تبصرہ کرنا چاہیں تو ہماری سائٹ حاضر ہے ۔ اردو میں مدلل جواب لکھ کر بھیجئے ، ہم انشاء اللہ اسے شائع کردیں گے ۔ ادارہ ۔