پاکستان ایسوسی ایشن جاپان کے انتخابات ہم کروائیں گے،  سفارتخانہ پاکستان کا اعلان

 

سفارتخانہ پاکستان واقع جاپان نے اعلان کیا ہے کہ ’پاکستان ایسوسی ایشن جاپان‘ کے اگلے انتخابات سفارتخانہ خود منعقد کروائے گا۔اس سلسلے میں سفارتخانے نے جمعہ 16 نومبر کو ایک میڈیا بریفنگ کا اہتمام کیا ، جس میں الیکشن کے طریقہ کار اور ضوابط کے بارے میں بتایا گیا۔سفیر پاکستان جناب نورمحمد جادمانی نے اپنی ابتدائی گفتگو میں کہا کہ کمیونٹی کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے لیے سفارتخانہ پاکستان نے خود انتخابات کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کی تفصیل جناب اسد گیلانی صاحب بتائیں گے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ گیلانی صاحب کی تمام باتوں کو ان کی تائید حاصل ہوگی۔
گیلانی صاحب نے اس فیصلے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ کمیونٹی کسی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا نہیں ہے، اور اس سلسلے میں کمیونٹی کے لوگوں کی جانب سے انفرادی اور اجتماعی طور پر اس اقدام کے لیے کہا جارہا تھا۔انتخابات کی تفصیل کے طور پر بتایا گیا کہ؛
انتخابات صرف دو عہدوں، صدر اور نائب صدر کے لیے ہوں گے۔
دونوں عہدوں میں اختیارات کی کوئی تقسیم نہیں ہوگی۔ تمام اختیارات صرف صدر کو حاصل ہوں گے۔
صدر کی جاپان سے غیرحاضری یا بیماری وغیرہ کی صورت میں نائب صدر ایسوسی ایشن کا ذمہ دار ہوگا۔ تاہم، صدر کی موجودگی میں اس کا عہدہ صرف رسمی ہوگا۔
انتخابات میں تمام موجودہ و سابق پاکستانی اور پاکستانیوں کے 18 سال سے زائد عمر کے بچے حصہ لے سکیں گے۔تاہم، ووٹ ڈالنے کے لیے خود کو رجسٹر کروانا ہوگا۔
امیدواروں کی رجسٹریشن 14 دسمبر تک ہوگی، جبکہ ووٹر وں کی رجسٹریشن 21 دسمبر تک ہوگی۔
ووٹنگ کا عمل جنوری کے اواخر یا فروری کے شروع میں ہوگا۔ ٹوکیو، ناگویا، اوساکا وغیرہ چند مقامات پر علیحدہ علیحدہ روز پولنگ ہوگی۔
ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا اعلان فروری کے آخر میں ہوگا، اور عہدیداروں کی باقاعدہ تقرری 23 مارچ 2013 سے ہوگی۔
الیکشن کا عمل شفاف ہوگا اور میڈیا کو کوریج کی اجازت ہوگی، تاہم سفارتخانے کا نتائج کا اعلان حتمی ہوگا، اور اسے چیلینج نہیں کیا جاسکے گا۔

بریفنگ کے بعد سوال و جواب کے  دوران یہ بات مختلف انداز سے بار بار پوچھی گئی کہ آخر سفارتخانے کو یہ کام اپنے ہاتھ میں لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کے جواب میں گیلانی صاحب کا استدلال تھا کہ گزشتہ انتخابات کے بعد بھی کمیونٹی کی دھڑے بندیاں ختم نہیں ہوسکیں تھیں، اور گزشتہ عہدیداروں کی میعاد 3 ماہ قبل ختم ہونے کے باوجود نئے انتخابات کی کوئی بات سامنے نہیں آرہی تھی۔ ایک دلیل یہ بھی دی گئی کہ  کمیونٹی کا سفارتخانے سے یہ الیکشن کروانے کامطالبہ تھا ۔ تاہم، بعد ازاں دوران گفتگو گیلانی صاحب نے تسلیم کیا کہ کمیونٹی کا مطالبہ یہ تھا کہ سفارتخانہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اس سلسلے میں انہیں کتنا کردار ادا کرنا چاہئے، اس کا تعین انہوں نے خود کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ نہ کرنے اور حالات کو دیکھتے رہنے کی بجائے انہوں نے یہ قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔
راقم نے ان سے سوال کیا کہ ’کچھ نہ کرنے‘ اور ’سب کچھ خود کرنے‘ کی دو انتہاؤں کے درمیان کا معتدل راستہ کیوں نہ چنا گیا، جس میں سفارتخانے کا کردار بھی ہو، لیکن الیکشن کا انعقاد کمیونٹی خود کرے۔ تاہم، انہوں نے اس کا کوئی واضح جواب نہیں دیا اور اس طریقہ کار کو مسترد کردیا۔
ایک سوال کیا گیا کہ تقریباً 10 ہزار پاکستانیوں میں سے کتنے افراد کے حصہ لینے کی صورت میں ان انتخابات کو قابل اعتبار تصور کیا جائے گا؟ جناب گیلانی نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ زیادہ سے زیادہ پاکستانی اس میں حصہ لیں، تاہم اگر صرف ایک سو افراد ووٹ ڈالتے ہیں تب بھی ہم جیتنے والے امیدواروں کو کمیونٹی کا نمائندہ تسلیم کریں گے۔بریفنگ کے دوران سفارتخانے کے چیف ڈی مشن جناب اسد گیلانی نے بار بار یہ بات زور دے کر کہی کہ ان انتخابات میں جیتنے والوں کے علاوہ وہ کسی کو کمیونٹی کا نمائندہ تسلیم نہیں کریں گے۔

سفارتخانے کی تقریبات میں مدعو کئے جانے کے علاوہ ان نمائندوں کا کردار کیا ہوگا، اور اس مجوزہ نئی  پاکستان ایسوسی ایشن کے مقاصد کیا ہوں گے؟اس سوال کا وہ کوئی واضح جواب نہ دے سکے، اور اسے کمیونٹی پر چھوڑ تے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمیونٹی اپنی توقعات کا خود اظہار کرے کہ وہ ان سے کیا چاہتی ہے۔

جناب گیلانی اس اہم سوال کا جواب بھی ٹال گئے کہ گزشتہ انتخابات جن میں کمیونٹی کے لوگوں نے انتہائی بھرپور طور پر حصہ لیا تھا اور جس کے نتائج کا اعلان سفارتخانے کے ہال میں ہی کیا گیا تھا، ان نتائج کو تسلیم کرتے ہوئے منتخب نمائندوں کو کمیونٹی کا نمائندہ کیوں نہیں سمجھا گیا۔ انہوں نے یہ کہتے ہوئے جواب گول کردیا کہ یہ سوال یا تو سفیر صاحب سے کیا جائے، یا اس وقت کے کمیونٹی معاملات کے نگران امتیاز احمد صاحب یا ایلیکس مروان صاحب سے پوچھا جائے۔ (یہ دونوں صاحبان اپنی جاپان پوسٹنگ کی میعاد مکمل کرکے یہاں سے جاچکے ہیں)۔گویا اس عمل کا ذمہ دار سفارتخانہ نہیں بلکہ کچھ افراد ہیں۔

سفیر پاکستان جناب جادمانی صاحب بھی نومبر کے اواخر میں اپنی میعاد مکمل کرکے جانے والے ہیں، اور وہ ان مجوزہ کمیونٹی انتخابات تک موجود نہیں ہوں گے۔ جبکہ گیلانی صاحب کی میعاد بھی ختم ہونے والی ہے، اور ان کے انتخابات کے انعقاد کے فوراً بعد جاپان سے جانے کے امکانات ہیں۔یعنی وہ ان انتخابات کے نتائج کی کسی قسم کی ذمہ داری لینے کے لیے یہاں موجود نہیں ہوں گے۔ بعد میں آنے والے سفیر یا چیف ڈی مشن، کسی مسئلے کی صورت میں یہ کہتے ہوئے اپنی جان چھڑا لیں گے کہ انتخابات گیلانی صاحب نے کروائے تھے، اس لیے وہ اس کے مسائل کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

جاپان میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے لیے پاکستان ایسوسی ایشن جاپان کے انتخابات تسلسل سے جاری رہنے چاہئے تھے۔ موجود ایسوسی ایشن اور الیکشن کمیشن کے اپنی ذمہ داری پورا نہ کرنے کے باعث ہی سفارتخانے کو اس معاملے میں مداخلت کرنا پڑی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود یہ سفارتخانے کا نہیں بلکہ کمیونٹی ہی کا کام ہے، اور اسے کمیونٹی کے دباؤ کے ذریعے کمیونٹی ہی کو کرنا چاہئے۔