زلزلے کے بعد جوہری بجلی گھروں سے تابکاری کا اخراج

 

جاپان میں جمعہ 11 مارچ کو دوپہر 2 بجکر 46 منٹ پر میگنیٹیوڈ 9.0 کاانتہائی شدید زلزلہ آیا ۔زلزلے کا مرکز سمندر میں ہونے کے باعث اس سے انتہائی بڑی تسونامی (سونامی) لہریں بھی پیدا ہوئیں ، جنہوں نے شمال مشرقی خطے کو تباہ کردیا ۔ زلزلے سے جاپان کے فوکوشیما پریفیکچر میں واقع دو جوہری بجلی گھر میں متاثر ہوئے ۔ فوکوشیما جوہری بجلی گھر نمبر1 کو شدید  نقصان ، جبکہ فوکوشیما جوہری بجلی گھر نمبر2 کوجزوی نقصان پہنچا ۔ جوہری بجلی گھروں کو پہنچنے والے نقصانات کے باعث ان سے تابکاری کا اخراج ہوا ، جو صحت انسانی کے لیے شدید مضر ہے ۔ تاہم ، تابکاری کی سطح کے بارے میں جاپان کے مقامی میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا وغیرہ میں خاصی متضاد خبریں آ رہی ہیں ، جن سے شہریوں میں شدید پریشانی پائی جاتی ہے ۔پاکستان کا میڈیا کافی خطرناک صورتحال پیش کر رہا ہے ، جس سے جاپان میں مقیم پاکستانیوں کے عزیز رشتہ دار خاصے پریشان ہیں ، اور اکثر صورتوں میں انہیں پاکستان واپس آنے کا مشورہ دیا جارہا ہے ۔

شدید زلزلے ، تسونامی، اور پھر تابکاری کے اخراج سے پریشانی یقیناً ایک قدرتی امر ہے ۔لیکن  ان حالات میں بھی جاپان میں رہ کر حالات کا سامنا کرنا ،  یا پاکستان یا کسی اور ملک کا رخ کرنا ، ہر شخص کا انفرادی فیصلہ ہے ۔ جاپان چھوڑنے کا فیصلہ کرنے والوں کو بھی مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا ، لیکن یہاں قیام کا فیصلہ کرنے والوں کو بیوقوف سمجھنا بھی مناسب فعل نہیں کہا جاسکتا ۔ ہر شخص اپنے فیصلے میں آزاد ہے ، تاہم فیصلے کے لیے  حالات کی درست تصویر ہونی چاہیے ۔ان حالات میں ضروری ہے کہ ٹھنڈے دماغ سے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے اپنے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے ۔

ہمارے میڈیا کا ایک حصہ سنسنی خیزی کا شیدائی ہے ، اور صورتحال کو انتہائی بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے ۔ مثال کے طور پر زلزلے اور تسونامی سے ہونے والی اموات کے بارے میں جاپانی حکومت کے 17 مارچ کی دوپہر کے   اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 5200 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے ، جبکہ لاپتہ افراد کی تعداد 10 ہزار کے قریب ہے ۔ لیکن پاکستان کے بعض اخبارات ہلاکتوں کی تعداد 14 سے 15 ہزار بیان کر رہے ہیں ۔ زلزلے اور تسونامی کو کئی روز گزرنے کے باعث لاپتہ افراد کی بڑی تعداد کی ہلاکت کا امکان موجود ہے ، تاہم ’امکان‘ کو مصدقہ ہلاکتوں کی خبر کے طور پر پیش کرنا صحت مند صحافت نہیں کہی جا سکتی ۔

 تابکاری کی صورتحال کے بارے میں بھی  بالکل یہی، بلکہ ایک لحاظ سے مزید سنگین معاملہ ہے ۔ تباہ شدہ جوہری  ری ایکٹروں کی بالکل درست صورتحال کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے باعث مختلف ماہرین امکانات کی بنیاد پر اپنے اندیشوں کا اظہار کر رہے ہیں ۔ ماہرین کے ان تجزیوں کو ’زمینی حقائق‘ کے طور پر پیش کرنے کی بجائے ، تجزیوں اور امکانات کی ہی طرح پیش کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ہر شخص ان تجزیوں سے اپنے نتائج اخذ کر سکے ۔لیکن بعض میڈیا اپنے اخذ کردہ نتائج کو درست اعدادوشمار کے طور پر پیش کر رہا ہے ، جس کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے ۔جاپان کے وزیر اعظم ناؤتو کان نے تمام متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی ہے کہ جاپان بھر کے مختلف علاقوں میں تابکاری کی درست پیمائش کی جائے ، اور عوام کو ان معلومات سے آگاہ کیا جائے ۔

 

فوکوشیما کے جوہری بجلی گھروں کے بارے میں کچھ بنیادی معلومات :

جاپان کے فوکوشیما پریفیکچر میں دو جوہری بجلی گھر قائم ہیں ، جن کے نام فوکوشیما جوہری بجلی گھر نمبر1 اور نمبر 2 ہیں ۔ بجلی گھر نمبر 1 میں 6 ، جبکہ نمبر 2 میں 4 ری ایکٹر ہیں ۔

فوکوشیما جوہری بجلی گھر نمبر 1 کے پہلے ری ایکٹر کی تعمیر جولائی سنہ 1967 میں شروع ہوئی تھی ، جبکہ اس سے تجارتی پیمانے پر بجلی کی پیداوار مارچ سنہ 1971 سے شروع ہوئی تھی ۔ آخری چھٹے ری ایکٹر کی تعمیر کا آغاز اکتوبر 1973، جبکہ اس سے بجلی کی پیداوار کا آغاز اکتوبر 1979 سے ہوا تھا ۔مزید 2 ری ایکٹروں کی تعمیر کا آغاز سنہ 2012 سے ہونا تھا، لیکن موجودہ حالات میں یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہوتا نظر آتا ہے ۔ ہلکے پانی کے 6 ری ایکٹروں میں سے 3 جاپانی کمپنیوں  ہٹاچی اور توشیبا ، جبکہ بقیہ 3 ری ایکٹر امریکی کمپنی جنرل الیکٹرک کے تیار کردہ ہیں ۔تاہم ، تمام 6 ری ایکٹر جنرل الیکٹرک کے ڈیزائن کردہ ہیں۔

فوکوشیما جوہری بجلی گھر نمبر 2کے چار ری ایکٹروں  سے  بجلی کی پیداوارسنہ 1981سے 1986 کے دوران شروع ہوئی تھی ۔اس کے چاروں ری ایکٹر جاپانی کمپنیوں توشیبا اور ہٹاچی کے تیار کردہ ہیں ۔

زلزلے کے وقت اور اس کے بعد کی صورتحال :

11 مارچ کو آنے والے زلزلے کے وقت فوکوشیما جوہری بجلی گھر نمبر 1 کے ری ایکٹر نمبر 4 ، 5 اور 6 ، پہلے ہی دیکھ بھال کے لیے بند تھے ، جبکہ ری ایکٹر نمبر 1 سے 3 ، چل رہے تھے ۔ مذکورہ تینوں ری ایکٹر زلزلے کو محسوس کرتے ہی خودکار نظام کے تحت بند ہو گئے ۔ اسی طرح فوکوشیما جوہری بجلی گھر نمبر 2 کے چاروں ری ایکٹر بھی زلزلے کے فوراً بعد، خودکار نظام کے تحت کامیابی سے بند ہوگئے ۔تاہم ، ری ایکٹرکے اندر کا درجہ حرارت ، اس کے بند ہوتے وقت تقریباً 1500 درجے سینٹی گریڈ ہوتا ہے ، جسے کم نہ کیا جائے تو وہ شدید نقصان کا باعث بن سکتا ہے ۔ ٹھنڈا کرنے کا کام کولنگ سسٹم کرتا ہے ۔

زلزلے کے وقت ری ایکٹر خودکار نظام کے تحت بند ہوجانے کے بعد، اصل مسئلہ تسونامی سے پیدا ہوا، جس نے نہ صرف کولنگ پمپس کو نقصان پہنچایا ، بلکہ ری ایکٹروں کو کنٹرول کرنے والا نظام، اور بجلی کی فراہمی منقطع ہونے کی صورت میں استعمال کے لیے رکھے گئے درجن بھر  متبادل جنریٹر بھی تسونامی کی نظر ہو گئے ۔ری ایکٹروں میں جوہری ایندھن کی سلاخیں پانی میں ڈوبی ہوئی حالت میں رکھی جاتی ہیں ۔ اسی طرح ، استعمال شدہ جوہری ایندھن کا ذخیرہ بھی پانی کے اندر رکھا جاتا ہے ۔ دونوں صورتوں میں پانی کی گردش مسلسل جاری رکھنا انتہائی ضروری ہے ۔ کولنگ کے لیے پانی کی گردش کا یہ نظام تسونامی سے تباہ ہونے کے باعث ، ری ایکٹروں کے اندر کا درجہ حرارت ، اور اسی طرح استعمال شدہ جوہری ایندھن کے حوضوں کا درجہ حرارت بھی بڑھنا شروع ہوا ،اور امکان ہے کہ وہاں موجود پانی کی بڑی مقدار بھاپ بن گئی ۔ جوہری ایندھن کی سلاخیں پانی سے باہر آنے کے باعث ، ان میں مختلف اقسام کے کیمیائی عمل وقوع پذیر ہونےکے باعث بڑی مقدار میں ہائیڈروجن گیس پیدا ہوئی ۔ ہائیڈروجن گیس کا دباؤ بلند ہونے کے باعث ، دونوں جوہری بجلی گھروں کے کئی (تمام نہیں) ری ایکٹروں میں یکے بعد دیگرے دھماکے ہوئے ۔ ان دھماکوں سےبعض ری ایکٹروں کے فولادی خول کو نقصان پہنچا ، جبکہ بعض کی بیرونی کنکریٹ کی دیواروں میں بھی شگاف پڑ گئے ۔ ایک ری ایکٹر کی عمارت کی چھت بھی بیٹھ گئی ۔دونوں متاثرہ بجلی گھروں میں تباہی شدید نوعیت کی ہے ، تاہم بعض پاکستانی اخبارات کی ، ری ایکٹر وں کے دھماکے سے ’پھٹ جانے ‘ کی خبر درست نہیں ۔ شگافوں کے باوجود ری ایکٹروں کی عمارات بھی ، اور ری ایکٹروں کے فولادی خول بھی کچھ ٹوٹ پھوٹ کے ساتھ موجود ہیں ۔بجلی گھر نمبر 1 کے ری ایکٹر نمبر 4 میں منگل اور بدھ (15 اور 16 مارچ) کی صبح آگ کے شعلے بھی دیکھے گئے ، تاہم بعد میں یہ آگ بجھ گئی ۔

 اس تباہی کے باعث بڑی مقدار میں تابکاری پھیلنے کے خدشات ظاہر کئے گئے ۔جاپانی حکام نے بجلی گھر نمبر 2  سے 10 کلو میٹر کے دائرے ، جبکہ زیادہ تباہی والے بجلی گھر نمبر 1 سے 20 کلومیٹر کے علاقے کو خالی کرالیا ۔ جبکہ 20 سے 30 کلومیٹر کے درمیانی علاقے کے باسیوں کو احتیاطی تدبیر کے طور پر ممکنہ حد تک گھروں کے اندر محصور رہنے کی ہدایت جاری کی ۔

تابکاری کی صورتحال :

تابکاری کی سطح کو مائیکرو یا ملی سیورٹ میں ناپا جاتا ہے  (ایک ملی سیورٹ ایک ہزار مائیکرو سیورٹ کے برابر ہوتا ہے ) ۔جاپان کی وزارت سائنس کے اعدادوشمار کے مطابق ، منگل کے روز جوہری بجلی گھر نمبر 2 سے تقریباً 20 کلومیٹر شمال مغرب کے علاقے میں تابکاری کی سطح 0.33 ملی سیورٹ تھی ۔ جبکہ 20 سے 30 کلومیٹر کے درمیانی علاقے میں تین مقامات پر پیمائش سے معلوم ہوا کہ زیادہ سے زیادہ تابکاری سطح 0.22 ملی سیورٹ تھی ۔ تابکاری اثرات کے ایک تحقیقی ادارے کے مطابق، اس سطح سے بھی انسان کو فوری طور پر تو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا ، تاہم طویل وقت تک مسلسل اس سطح کی تابکاری نقصان دہ ہو سکتی ہے ۔وزارت سائنس کے مطابق جوہری پلانٹ سے 30 سے 60 کلومیٹر کے درمیانی علاقے میں  بدھ 16 مارچ کی صبح تابکاری سطح 0.0253 ملی سیورٹ تھی ، جو معمول کی سطح سے کچھ زائد ہے ۔

ٹوکیو کی میٹروپولیٹن حکومت ، اپنے شنجوکو میں ایک عمارت کی چھت پر نصب کئے گئے تابکاری پیما کے اعدادوشمار ہر گھنٹے بعد ، اپنی ویب سائٹ پر شائع کر رہی ہے ۔ مرکزی حکومت اور علاقائی حکومتوں کے ان اقدامات کا مقصدعوام کو درست معلومات سے آگاہ رکھنا ہے ، تاکہ وہ افراتفری کا شکار نہ ہوں ۔

اب تک کے اعدادوشمار کے مطابق ، ٹوکیو میں بھی معمول سے کچھ بلند تابکاری ریکارڈ کی گئی ہے ، تاہم ماہرین کے مطابق اس کی سطح سی ٹی اسکین وغیرہ کے لیے استعمال کی جانے والی تابکاری سے بھی کئی گنا کم ہے ۔ البتہ اس معاملے میں تشویش کا پہلو یہ ہے تابکاری طویل عرصے تک زمین میں قائم رہتی ہے ۔ ایک بار تابکاری سے آلودہ ہوجانے والا پانی یا اشیاء خوردنی قابل استعمال نہیں رہتیں ۔ زمین میں بھی تابکاری طویل عرصے تک قائم رہ سکتی ہے ۔ تابکاری کی کتنی مقدار انسان کے لیے مضر ہے ، اس پر سائنسدانوں کی رائے بھی منقسم ہے ۔ چنانچہ اس معاملے میں کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی ۔ تاہم ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ٹوکیو وغیرہ ، جوہری پلانٹ سے کئی سو کلومیٹر دور کے علاقوں میں موجود تابکاری کی سطح ، لوگوں کے لیے کسی فوری یا بڑے خطرے کا باعث نہیں ہے ۔تاہم ، ہر شخص کو احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کرنی چاہئیں ۔

 
فوکوشیما جوہری بجلی گھر نمبر 1 کا فضائی منظر جوہری ری ایکٹر کا اندرونی خاکہ
فوکوشیما جوہری بجلی گھر نمبر 1 کا تفصیلی منظر