مشہوری کا گر               ۔۔۔               خاور کھوکھر

 

یملے نے خود خاور کو آواز دی  کہ بات سنو جی خاور صاحب ـ

خاور اوکشن میں میزوں کے پاس سے گزر رہا تھا  جبکہ یملا میز پر بیٹھا ہواتھا ۔

خاور نے کرسی سنبھالی اور پوچھا  ، جی ؟

تم بڑے اون لائین اخبار نکال کر مشہور ہونے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہو۔ اوئے ، آؤ میں تم کو جاپان میں مشہور ہونے کا گر بتاؤں ـ

میں سستی شہرت کا قائل نہیں ہوں جی  ، خاور نے کہا ۔

جاپان میں سستی شہرت بھی کوئی اتنی سستی نہیں ہے ۔ سب ملا جلا کر ایک لاکھ ین تو لگ ہی جاتا ہے ماہانہ ، اور زیادہ بھی ہو سکتے ہیں ۔ ویسے ، تمہاری اوقات کیا ہے ؟

یملا سانس لینے کو رکا تو خاور نے کہا ، جی میری اوقات صبح ساڑھے تین بجے سےلے کر شام تھک جانے تک ہے ۔

یملا شروع ہو گیا ۔ اوئے میں اوقات کار نہیں ، وہ والی اوقات پوچھ رہا ہوں جو نسلی لوگ پوچھتے ہیں  ہم لوگوں سے ۔ لیکن چھڈو جی ، ناں تم نسلی ناں میں نسلی ، ویسے یار یہ گورے لوگ سنا ہے اپنے کتوں کا بھی شجرہ رکھتے ہیں ، کہ کس کتی سے تھا اور کس کتے کا تھا یہ بلونگڑا ۔ لیکن اپنا ان کو ماں کے بوڑھی ہونے پر پتہ چلتا ہے کہ جسے ابا سمجھتے رہے ، وہ تو صرف ماں کا خصم تھا ، اصلی ابا تو گامے کمیار کا انگریز ماڈل تھا  ـ  ۔

خود اپنی نسل معلوم ہو یا نا ہو ، یہ انگریز لوگ کتے نسلی رکھتے ہیں ، نہیں اعتبار ، تو ان کی کالونی رہنے والے ممالک کے حکمران دیکھ لو !!

خاور نے ہنگورا مار کر اس روکا اور کہا کہ جی موضوع سے نہ ہٹیں ـ آپ نے مجھے کس لیے بلایا تھا؟؟

اوئے ،  جاپان ميں شہرت کا گر بتانے کے لیے ۔  اور یہ میں تم کو اس لئے بتا رہا ہوں کہ اس کو ٹائپ كركے نیٹ پر چڑھا دو  ، تاکہ جن کو علم نہیں ہے ان کو بھی معلوم ہو جائےکہ جاپان ميں خود کو سیاسی حلقوں میں  متحرک اور پی آر والا کیسے شو کیا جاتا ہے ۔

خاور نے یملے کو روک کر پوچھا  ،یہ پی آر کیا ہوتا ہے ؟

اوئے پی آر ہوتا ہے پبلک ریلیشن ، تم کیا اس کا مطلب پاکستان سے رفیوز  یا پاکی رولا یا کچھ اور تو نہیں سمجھ رہے تهے ؟؟  یملے نے الٹا سوال کیا ، لیکن جواب سے پہلے ہی خاور کو بتانے لگا  کہ سن یار یہاں جاپان میں سسٹم چلتا ہے ۔ اس لئے یہاں سیاستدانوں کو حکومت کی طرف سے اتنا زیادہ خرچا پانی دیا جاتا ہے کہ اس بندے کو کاروبار  کرنےکی ضرورت ہی نہیں رہتی ۔ بلکہ وہ کاروبار کرہی نہیں سکتا کہ بد نام ہو جائے گا ۔  

لیکن کچھ نہ کچھ کمائی کا شوق توہوتا ہےناں جی ہر بندے کو ۔ اس کے لیے ان جاپانی سیاستدانوں نے ایک   طریقہ اپنا رکھا ہے جس کو یہ پارٹی کہتے ہیں ۔

ٹی پارٹی کہہ  لو ، یا پین پلان کی پارٹی ، جس میں شمولیت کی شرط ہوتی ہے  ،   دو مان ین یعنی بیس ہزار ین سکہ رائج الوقت  ۔بمطابق پاک روپے کے تقریباً بیس ہزار روپیہ  کا ٹکٹ لو اور شامل ہو جاؤـ

بڑا مہنگا ٹکٹ ہے ۔ خاور کے منہ سے نکل گیا ۔

اوئے جاپان میں شہرت اتنی سستی نہیں ہے ۔تم بھی تو روز خبریں ٹائپ کرکر کے پھاوے ہو ئے جارہے ہو کہ نہیں ؟؟ یملے نے کہا اور بات جاری رکھتے ہوئے کہنے لگا ۔

اس ٹکٹ کو بیچنے کے لیے  سیاسی پارٹیوں کے ورکر بے چین رہتے ہیں کہ اس طرح ان کا ایک اچھا امیج  بنتا ہے ان کا ان کے لیڈر کی نظروں میں ۔ اگر کسی نے بھی یہ ٹکٹ لینا ہو تو اپنے علاقےکی سیاسی پارٹی کے دفتر میں جا کر پوچھ لے ۔  دفتر کی پہچان تو تم کو معلوم ہی ہو گی ۔ اور  جس کو معلوم نہیں  ہے وہ پھر بالکل ہی کم علم ہے ۔  اس  کومشہور ہونے کے لے کچھ اور سوچنا پڑے گا ـ ۔

جب پیسے دے کر وزیر کی پارٹی میں شامل ہو جاؤ ، تو اس کے ساتھ ایک تصویر ضرور بنوانی ہے  ۔ زیادہ ہو جائیں تو اور بھی اچھا ہے ۔

اس کے بعد اگر تم خود خبر تیار کرسکتے ہو تو ٹھیک ہے ،  ورنہ جاپان میں تیس چالیس ہزار ین لے کر خبر تیار کرکے دینے والے کاریگر ہیں  ان سے رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

یہان آ کر یملا رکا اور اور طنزیہ لہجے میں خاور کو کہنے لگا  ،  تم بھی ہو ناں جی کاریگر !!!

تم ہی تیار کردینا اور اور اچھا سا بیان بھی بنا دینا ۔ مثال کے طور پر  اگر وزیر خارجہ کی پارٹی ميں جاؤ تو  بیان ہو گا ، مشہور بلاگر خاور کمیار نے جاپان کے وزر خارجہ سے ایک ملاقات میں کہا  کہ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔

اور اگر وزیر داخلہ کی پارٹی میں جاؤ تو بیان ہو سکتا ہے ، موٹے پداں والے نے جاپانی وزیر داخلہ سے ایک میٹنگ ميں اس بات پر سیر حاصل گفتگو کی کہ پاکستان سے سبزیاں اور مزدور امپورٹ کرنے پر غور کریں ـ ۔

خاور نے پوچھا کہ اگر اگلے دن وزیر صاحب نے کہہ دیا کہ ان سے اس طرح کی کوئی بات نہیں ہوئی تو؟؟

اوئے تم نے وزیر صاحب کا کوئی بیان نہیں لکھنا ہے ۔  بس پاک لوگوں کا لکھنا ہے کہ انہوں نے کیا کہا ۔

 وزیر صاحب نے سنا  ،یا نہیں ۔ ان کو یاد ہے کہ نہیں ۔ بس پاک بندے نے کیا کہا تھا ، تم اگر یہ لکھو گے تو پکڑے نہیں جاؤ گےـ ۔

اس کے بعد انٹر نیٹ پر اس پیغام کو لگوانے کے لیے پیسے تو دینے ہی پڑیں گے  ۔چاہے خبر لگانے کے دے دو  ، چاہے اپنی کمپنی کی پبلسٹی کے ماہانہ دے دو ۔

کیسا لگا میرا آئیڈیا ؟؟ مشہور ی والا  ۔  یملے نے سوال کیا ۔

خاور نےکہا کہ  تم خود یہ فارمولا کیوں نہیں استعمال کرتے؟؟

تم کیوں نہیں کرتے ، تم کو بھی تو یہ سارا علم تھا ناں ؟؟ یملے نے الٹا سوال کردیا۔

میری انا اور خودداری یہ برداشت نہیں کرتی ، خاور نے جواب دیا ۔

تو کیا میرے اندر  ایک بلونگڑا  چھپا ہوا ہے جو ہر وقت کسی مالک کی تلاش میں ہےکہ کوئی میرا پٹہ پکڑے اور میں دم ہلا ہلا کر کسی کے قدموں میں لوٹنیاں لینے لگوں ؟؟

اگر ایسا ہوتا ،   تو  تم لوگ مجھے پیٹھ پیچھے یملا نہیں کہتے ـ بڑا معتبر ، سیانا اور ماہر بندہ کہتے ۔

یملے نے یہ بھی کہا کہ اگر اس آئیڈیے کو کوئی استعمال کرنا چاہے،تو بے جھجک پوچھ لے ۔ میں گائیڈ کردوں گا ۔

اور اگر کوئی بات خود سے یاد آئی تو بعد میں تم کو بھی بتا دوں گا ۔