جاپان کے عام انتخابات میں حکمران جماعت کو بدترین شکست۔ ایل ڈی پی کو اکثریت۔

 

جاپان میں اتوار 16 دسمبر کو ایوان زیریں کے انتخابات ہوئے۔ ان انتخابات میں حکمران جماعت ڈیموکریٹک پارٹی آف جاپان (DPJ) کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔اس نے صرف 57 نشستیں حاصل کیں۔ جبکہ حزب اختلاف کی مرکزی جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (LDP) نے 294 اور اس کی اتحادی جماعت نیو کومے (New Komei) پارٹی نے 31 نشستیں حاصل کیں۔ اس طرح دونوں جماعتوں کی مخلوط حکومت کو 325 نشستیں حاصل ہوں گی، جو 480 نشستوں کے ایوان میں دو تہائی سے زائد اکثریت ہے۔ایل ڈی پی کے قائد شنزو  آبے  متوقع طور پر جاپان کے آئندہ وزیر اعظم ہوں گے۔

ڈیموکریٹک پارٹی آف جاپان صرف تین سال تین ماہ اقتدار میں رہ سکی۔ وزیر اعظم یوشی ہیکو نودا نے شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے، جماعت کی سربراہی سے استعفٰی دینے کا اعلان کردیا ہے۔

ٹوکیو کے سابق گورنر شنتارو  اشی ہارا  اور اوساکا کے ناظم تورُو ہاشی موتو کی نئی قائم کردہ سیاسی جماعت جاپان ریسٹوریشن (Japan Restoration)پارٹی کو 54 نشستیں حاصل ہوئیں۔یور (Your)پارٹی کو 18، ٹومورو (Tomorrow)پارٹی کو 9، کمیونسٹ  (Communist) پارٹی کو 8، اوردیگر چھوٹی پارٹیوں کو 4 نشستیں حاصل ہوئیں۔ 5 نشستیں آزاد امیدواروں نے جیتیں۔