اِباراکی پریفیکچرکی  ۵ مساجد کی مشترکہ نماز عید ۔

 

 

اسلام میں اجتماعیت پر بیت زیادہ زور دیا گیا ہے ، تاکہ امت متحد رہے ۔ اس اجتماعیت کے مظاہر میں سے ایک نماز بھی ہے ۔ ویسے تو نماز گھر پر بھی ادا کی جاسکتی ہے ، لیکن دیگر مسلمانوں کے ساتھ مل کر ، مسجد میں باجماعت نماز کو افضل قرار دیا گیا ، تاکہ مسلمان زیادہ سے زیادہ اجتماعیت کی جانب مائل ہوں ۔ گاؤں کی چھوٹی مساجد کی بجائے ، جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی ، اور اسی طرح بڑے علاقے میں ایک مقام پر عیدین کی نمازوں کی ادائیگی ، یہ بھی اسی اجتماعیت کا ایک مظہر ہے ۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بھی ، ہمارے بچپن تک یہ رجحان عام تھا کہ ہر محلے کی مسجد میں نماز عید کا اہتمام کرنے کی بجائے ، کچھ مساجد کی جانب سے مشترکہ طور پر کسی بڑے میدان میں نماز عید ادا کی جاتی تھی ۔لیکن اب حالات کے تحت یہ رجحان دم دوڑ رہا ہے ، اور زیادہ تر مساجد میں عید کی نمازیں بھی ادا کی جاتی ہیں ۔

جاپان میں بھی نوے کی دہائی کے وسط تک عید کے بڑے مشترکہ اجتماعات ہوا کرتے تھے ۔ ٹوکیو اور اس کے قرب و جوار کے علاقوں ، یعنی تقریباً پورے کانتو ایریا میں نماز عید کا ایک ہی بڑا اجتماع ہوتا تھا ۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مساجد کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا ، اور لوگ دور دراز کا سفر کرنے کی بجائے اپنے اپنے علاقے میں نماز عید پڑھنے کو ترجیح دینے لگے ۔

ان حالات میں اباراکی پریفیکچر میں اس سال عید الفطر کے موقع پر اجتماعیت کا ایک زاندار مظاہرہ ہوا ۔مدینہ مسجد اومیتاما ، ابوبکر مسجد میتو، مسجد بیت المکرم میتو، محمدی مسجد ایواکی ، اور ہٹاچی مسجد ہٹاچی ، یعنی ۵ مساجد کی انتظامیہ کی جانب سے اپنی اپنی مساجد میں عید کے چھوٹے اجتماعات کرنے کی بجائے ،  ایک کمیونٹی سینٹر میں مشترکہ نماز عید کے انتظام پر اتفاق کیا گیا ۔اس سلسلے میں جن اصحاب نے بھی کوششیں کیں ، وہ مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا کرے ۔ اس مشترکہ اجتماع سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اختلافات کے باوجود ، اگر صدق دل سے کوشش کی جائے تو اتحاد ممکن ہوتا ہے ۔ اللہ کرے یہ اتحاد صرف نماز عید تک محدود نہ رہے ، بلکہ امت مسلمہ میں ہر سطح پر اتحاد و اتفاق پیدا ہو۔ اللہ ہمیں اس اتحاد کی کوششوں میں حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے ۔

 

تصاویر بشکریہ جاوید علی زیدی ، منتظم مدینہ مسجد