پاکستانی کمیونٹی کے ’بڑوں‘ سے ایک عام پاکستانی کی درمندانہ اپیل

ایک نامعلوم پاکستانی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

محترم جناب ۔۔۔۔ رئیس صدیقی صاحب، ملک حبیب الرحمن صاحب، حسین خان صاحب،الطاف بٹ صاحب، رانا ابرار صاحب، عبدالرحمن صدیقی صاحب ،عبدالرحیم آرائیں صاحب، اصغر حسین صاحب، راشد صمد صاحب، چودھری شاہد صاحب، شاہد مجید صاحب، زبیر صاحب، ناصر ناکاگاوا صاحب ، محبوب نجمی صاحب،ظہر دانش صاحب، عرفان صدیقی صاحب، نعیم آرائیں صاحب، لطیف نیازی صاحب، ملک چنگیزی صاحب ۔۔۔۔ آپ سب محترم حضرات کی خدمت میں ادب و احترام کے ساتھ  السلام علیکم

سمجھ میں نہیں آرہا کہ کہاں سے اور کیسے شروع کروں۔ ویسے تو میری تحریر کی سادگی، سچائی اور خلوص آپ کو یقین دلائے گا لیکن پھر بھی جیسا کہ آج کل رواج ہو گیا ہے کہ اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کے لیےیار لوگ قرآن اٹھانے لگے ہیں تو میں بھی خود کو سچا ثابت کرنے کے لیے ای میل پر قرآن تو نہیں اٹھا سکتا لیکن کلمہ پڑھ لیتا ہوں ۔۔۔۔۔ لا الٰہ الا اللّٰہ محمد الرسول اللہ ۔کلمہ پڑھ کر سب سے پہلے تو میں یہ وضاحت کر دوں کہ میں ایک عام پاکستانی کی نمائندگی کر رہا ہوں اور میں آپ حضرات یا کسی گروپ کا فریق نہیں ہوں اور نہ ہی میراتعلق کسی خاص گروپ یا شخصیت سے ہے۔ میں جو کچھ بھی لکھ رہا ہوں قطعی غیر جانبدارانہ اور انفرادی حیثیت سے لکھ رہا ہوں اور میرے پیش نظر قرآن کی یہ آیت ۔۔۔ اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں جنگ کریں تو اُن کے درمیان صلح کرا دیا کرو۔۔۔ اور مندرجہ ذیل امور ہیں۔ دین اسلام، پاکستان اور پاکستانی قوم کا مثبت اور باوقار امیج قائم کرنا۔ کمیونٹی کے درمیان بے چینی ، اضطراب و انتشار اور باہمی اختلافات کو ختم کرنا۔ کمیونٹی کے درمیان بھائی چارا اور امن و سکون کی فضا قائم کرنا۔ آپ میں سے کوئی نہیں جانتا کہ یہ تحریر کون لکھ رہا ہے۔ میرے لیے آپ سب قابل احترام ہیں۔ آپ کے خاندان کی تمام خواتین میرےلیے ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی طرح قابل عزت ہیں اور جس طرح آپ کے لیے محترم ہیں بالکل اسی طرح میرے لیے بھی قابل احترام ہیں۔ گذشتہ کچھ عرصے سے کمیونٹی کے درمیان اختلافات، انتشار، بے چینی اور غلط فہمیوں نے مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ میں جو کچھ بھی لکھ رہا ہوں اپنی مرضی و منشا، خلوص نیت اور درد دل سے لکھ رہا ہوں۔ میرا مقصد کسی کو بے قصور یا کسی کو گناہ گار ثابت کرنا نہیں ہے اور نہ ہی میرا مقصد کسی شخص یا گروپ پر طنز کرنا ہے۔میرا مقصد تو ٹوٹے دلوں کو جوڑنا اور غلط فہمیوں ، بدگمانیوں اور اس اضطراب و انتشار اور نفاق کو ختم کرنا جس کے اثرات کمیونٹی پر نہایت بھیانک مرتب ہو رہے ہیں۔اور یہ صرف میری ہی نہیں پوری پاکستانی کمیونٹی کی رائےہے۔ میرا مقصد آپ کی توجہ ان امور کی جانب بھی مبذول کرانا ہے جن کے باعث اسلام، پاکستان اور پاکستانی قوم بدنام ہو رہی ہے۔ خدا نخواسطہ میرا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ آپ سب جان بوجھ کر ایسا کر رہے ہیں اور ظاہر ہے یہ ناممکن ہے کہ آپ ایسا چاہیں۔ آپ سب کی اسلام ، پاکستان اور پاکستانی قوم سے محبت کسی بھی شک و شبے سے بالا تر ہے۔ میں آپ اور ہم سب اپنے دین اور اپنے ملک کےخیر خواہ ہیں اور اس کے لیے اپنی جان بھی قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ اس بحث میں پڑے بغیر کہ کون ظالم ہے اور کون مظلوم، کون بے قصور ہے اور کون گناہ گار، کون معصوم ہے اور کون مکار، کس نے پہل کی اور کس نے رد عمل کا مظاہرہ کیا، کس نے زیادتی کی اور کس نےکمی۔ کیوں کہ یہ بحث لا حاصل اور لاینحل ہے اور اس بحث میں الجھ کر ہم کبھی بھی مثبت نتیجے تک نہیں پہنچ پائیں گے۔ میں آپ کی توجہ اس امر کی جانب خاص طور پر مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ باہمی اختلافات کی وجہ سے نادانستہ طور پر، آپ کے نہ چاہتے ہوئے بھی اسلام، پاکستان اور پاکستانی قوم پر حرف آرہا ہے۔ جاپانیوں کے دلوں میں ہماری رہی سہی عزت بھی خاک میں مل رہی ہے۔  اور ہم جو بحیثیت پاکستانی ایک قوم اور بحیثیت مسلمان ایک اللہ، ایک رسول ،ایک قرآن کے نام لیوا اور دعوے دار ہیں لیکن باہمی اختلافات کی بدولت ،آپ سب کے نہ چاہتے ہوئے بھی، دین اسلام بھی بدنام ہورہا ہے اور من حیث القوم بھی ہم اپنے وطن کے لیے نیک نامی کا باعث نہیں بن رہے ہیں۔ ہماری جگ ہنسائی ہو رہی ہے ۔میں بار بار یہ کہہ رہا ہوں کہ آپ سب یہ نہیں چاہتے لیکن بد قسمتی سے اس کے نتائج یہی بر آمد ہو رہے ہیں۔ ذرا سوچئے جب آپ پولیس کوایک دوسرے کے خلاف شکایات درج کرواتے ہیں، تواس سے قطع نظر کہ کون گناہ گار اور کون بےگناہ ہے، وہ ہمارے اور ہمارے دین کے بارے میں کیا رائے قائم کرتے ہوں گے؟؟؟ یہاں میں آپ سب کی توجہ ایک نہایت اہم امر کی جانب بھی مبذول کرانا چاہتا ہوں اور وہ ہے جاپانی خواتین کا قبول اسلام اور پاکستانی مردوں سے رشہ ازدواج میں منسلک ہونا۔ کسی دوسرے مذہب کو اختیار کرنا اور اجنبی معاشرے کے فرد سے شادی کرنا زندگی کا سب سے مشکل اور سب سے بڑا فیصلہ ہوتا ہے۔ میں اپنی ان جاپانی بہنوں کی عظمت کو سلام پیش کرتا ہوں جو اتنابڑا فیصلہ کر کے ایک نئے طرز زندگی کو اپناتی ہیں۔ اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ ہماری یہ جاپانی بہنیں خصوصی مقام و احترام کی مستحق ہیں۔ بحیثیت ایک دینی بھائی اور پاکستانی ہمیں اپنی جاپانی بہنوں کو یہ باور کرانا چاہیے کہ ان کا اسلام قبول کرنے کا اور ایک پاکستانی سے شادی کرنے کا فیصلہ بالکل ٹھیک تھا۔ اگر ہمارے کسی عمل سے ان بہنوں کا دل دکھتا ہے اور یہ اپنے فیصلے پر پچھتاتی ہیں اور اللہ نہ کرے ، اللہ نہ کرے، خاکم بدہن دین اسلام ترک کر دیتی ہیں تو ہم سب اس کے ذمہ دار ہوں گے کیوں کہ بنیادی وجہ باہمی اختلافات اور وہ انتہائی غیر اخلاقی حرکات ہوں گی جو ہماری جاپانی بہنوں کے ساتھ روا رکھی جارہی ہیں۔اس دنیا میں نہیں تو آخرت میں ہماری پکڑضرور ہوگی۔ یہاں ایک بار پھر میں آپ سب کو ٹھنڈے دل سے غور کرنے کی دعوت دیتا ہوں کہ ذرا سوچئے وہ جاپانی جو یہ سب کچھ جانتے ہیں وہ ہمارے دین اور ملک و قوم کے بارے میں کیا سوچتے ہوں گے ؟؟؟ کیا وہ اچھا سوچتے ہوں گے؟؟؟ کیا وہ ہم سے پیچھا چھڑانے کے بارے میں نہیں سوچتے ہوں گے؟؟؟ کیا وہ یہ نہیں سوچتے ہوں گے کہ کس طرح مستقبل میں پاکستانیوں کی جاپان آمد کو روکا جائے ؟؟؟ تاکہ یہ ہمارے معاشرے میں بے چینی کا سبب نہ بنیں۔ جاپانی پولیس اور دوسرے جاپانیوں کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ آپ میں سے کون صحیح ہے اور کون غلط ،وہ تو مجموعی طور پر ہم سب کو برا سمجھتے ہوں گے۔ ان کے نزدیک تو ہم سب ایک جیسے ہیں۔ یعنی مسلمان اور پاکستانی۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے یہ بازی عشق کی بازی ہے' جو چاہو لگا دو ڈر کیسا.۔۔۔ گر جیت گئے تو کیا کہنا'ہارے بھی تو بازی مات نہیں ۔

اگر اس تھانہ کچہری میں آپ میں سے کوئی کامیاب اور کوئی ناکام ہوتا ہے تو بھی مجموعی طور پر جائزہ لیں تو آخری مصرع ترمیم کے بعد کچھ اس طرح ہوگا جیتے بھی تو بازی مات ہے ۔
 ملک چنگیزی صاحب کون ہیں میں نہیں جانتا لیکن یہ بھی ہمارے بھائی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چنگیزی صاحب کے جذبات شدید مجروح ہوئے ہیں اوران کا دل بری طرح سے دکھا ہے ۔ یہ سخت ناراض ہیں،اس بحث سے قطع نظر کہ جائز ناراض ہیں یا ناجائز، چناچہ اس خفگی کے عالم میں چنگیزی صاحب کو اور کچھ نہ سوجھا تو انہوں نے اپنے غم و غصے کے اظہار کے لیے ''باتصویر'' ای میلز بھیجنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اسی طرح مختلف ویب سائٹس پر شخصیات کی تضحیک و تحقیر کی جارہی ہے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھا لا جارہا ہے۔ ان شخصیات میں چند نہایت سینیئر شخصیات بھی شامل ہیں جو ہمارے والد صاحب کی عمر کے برابر اور اسی احترام کے لائق ہیں مثلا رئیس صدیقی صاحب، ملک حبیب الرحمن صاحب، حسین خان صاحب، عبدالرحمن صدیقی صاحب، رانا ابرار صاحب، الطاف بٹ صاحب وغیرہ ان کے علاوہ وہ تمام شخصیات جن کو میں نے خط کے آغاز میں مخاطب کیا ہے ان کی تحقیر و تضحیک بھی کسی طور جائز و مناسب نہیں ہے۔ آپس کے یہ جھگڑے، اختلافات، بد گمانیاں، غلط فہمیاں اور الزام تراشیاں اس حد تک بڑھیں کہ بات ذاتیات سے نکل کر ایک دوسرے کے خاندان تک جا پہنچی۔ حالانکہ خاندان کے افراد اور خصوصا خواتین کا آپ کے جھگڑوں سے کوئی تعلق نہ تھا لیکن وہ پاک باز اور معصوم خواتین جو ہماری بہنوں کی طرح ہیں بلا وجہ اس کی زد میں آگئیں۔ فریقین نے جی بھر کر ایک دوسرے کے خلاف زہر اگلا، نام بگاڑے، برے برے القابات سے نوازا اور اپنے تئیں بدلہ لینے کی بھرپور کوشش کی۔ اس بدلہ لینے کی دھن میں وہ بھول گئے کہ شریعت نے بھی بدلے کا ایک اصول مقرر کیا ہے یعنی انکھ کے بدلے آنکھ، کان کے بدلے کان لیکن صاحب آپ کا جرم بال برابر تھا (اگر تھا)لیکن بدلے میں بال کی جگہ کھال ہی اتار لینے کی کوشش کی گئ۔ی یہ عمل قرآنی اصول کی روشنی میں زیادتی کے زمرے میں آتا ہے۔ اور صاحبو یہ بھی واضح ہو کہ قرآن نے جہاں بدلے کا اصول مقرر کر کے انسانی جبلت کو مطمئن کیا ہے وہاں آگے چل کر معاف کر دینے میں زیادہ فضیلت بیان کی ہے۔ اللہ نے بدلہ لینے سے معاف کر دینے کو زیادہ پسند فرمایا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے آپ اس سلوک کے مستحق نہ تھے جو آپ کے ساتھ روا رکھا گیا ہے آ پ سب حضرات کی دین اسلام اور پاکستان کے لیے کسی نہ کسی حوالے سے خدمات ہیں اور ہم سب پاکستانی کمیونٹی کے افراد آپ کی ان خدمات کے معترف ہیں۔ آپ سب پاکستانی کمیونٹی کا سرمایہ ہیں۔ کمیونٹی ہمیشہ رہنمائی کے لیے آپ حضرات کی جانب دیکھتی ہے لیکن جب آپ ہی منقسم اور باہم دست و گریباں رہیں گے توپھر ہم ''کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں'' گے؟؟؟؟  ایسی صورت حال میں کمیونٹی ہمیشہ منقسم رہے گی۔ اور مورخ جب تاریخ رقم کرے گا تو اس تقسیم و انتشار کےاسباب میں آپ کے اختلافات سب سے نمایاں ہوں گے۔ غلطی کبھی بانجھ نہیں رہتی مسلسل انڈے بچے دیے جاتی ہے۔ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ تحمل، تدبر اور عفو و در گزر سے کام لیتے ہوئے باہمی اختلافات کو ختم کر کے اس غلطی کاازالہ کر دیا جائے جو نا دانستہ طور پر سرزد ہو رہی ہے اور مسلسل انڈے بچے دیے جا رہی ہے؟؟؟؟؟؟؟ وہ وقت یاد کیجیے جب آپ ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے، کھاتے پیتے تھے ماضی کی ان خوشگوار یادوں اور تعلقات کا ہی پاس رکھ لیجیے جب آپ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے۔ کیا آپ نے کبھی جائزہ لیا کہ آپ کے مابین اختلافات کی وجہ کیا ہے؟ مجھے یقین ہے کہ جب آپ ٹھنڈے دل سے تنہائی میں غور سے اس بات کا جائزہ لیں گے تو یہ جان کر حیران ہوں گے کہ صورت حال جتنی گھمبیر ہے وجہ اختلاف اتنی سنگین نہ تھی۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ باہمی تعلقات میں وہ چھوٹی چھوٹی غلطیاں جو ناقابل غور ،معمولی اور آسانی سے نظر انداز کر دینے کے قابل ہوتی ہیں ہماری انا کی بدولت رائی سے پہاڑ بن جاتی ہیں اور پھر ہم اس انا کے اسیر ہو کر رہ جاتے ہیں اور باہمی تعلقات کی خلیج وسیع سے وسیع تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ میں آپ سے یہ نہیں کہتا کہ اختلافات کو پس پشت رکھ کر کل سے آپ گلے میں باہیں ڈال کر بھنگڑا ڈالیں لیکن اگر اختلاف کرنا بھی ہے تو تہذیب و شائستگی کے قرینوں کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ اختلاف کوئی بری بات نہیں ہے۔ ہر شخص کے معاشی، سیاسی، سماجی اور مذہبی نظریات ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے ہمارے درمیان اختلافات بھی ہوتے ہیں لیکن تہذیب کا تقاضا یہی ہے کہ وہ اخلاقیات کے دائرے میں رہیں۔ اس ضمن میں انگریزی کی ایک کہاوت بڑی معنی خیز ہے اور ہمارے لیے قابل غور بھی۔۔۔۔ let's agree to disagree

آپ ویب سائٹس پر مسابقت اور مقابلے کا مظاہرہ کیجیے،لیکن اچھی صحافت کے زریں اصولوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے۔ بہترین و معیاری رپورٹنگ کیجیے، معلوماتی خبروں سے پاکستانی کمیونٹی کو باخبر رکھیے ۔ اور سب سے بڑھ کر کمیونٹی کو متحد رکھیے۔ ہمیں ایک دوسرے کے وجود کواور ایک دوسرے کی حیثیت کو کھلے دل اور خندہ پیشانی سے تسلیم کرنا ہوگا۔ دیار غیر میں رہتے ہوئے ہماری ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں۔ ہر شخص انفرادی طور پر اپنے ملک کا سفیر ہوتا ہے۔ دیار غیر میں ہمارا اٹھنا بھیٹنا، رہن سہن، میل ملاپ غرض یہ کہ ہمارا ہر ہر عمل دین اورملک و قوم کی نمائندگی کرتا ہے۔ نہ صرف جاپان بلکہ پوری دنیا میں پاکستانی قوم کو ایک پر امن و باوقار قوم اور دین اسلام کو بہترین مذہب کے طور پر پیش کرنا ہمارا فرض ہے۔ جب تک ہم آپس کے جھگڑےختم نہیں کریں گے ہم اپنے فرائض صحیح طریقے سے ادا نہیں کر سکیں گے۔ آخر میں ، میں ایک مرتبہ پھر نہایت عاجزی سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کے باہمی اختلافات کا سب سے بڑا نقصان دین اسلام، پاکستان اور پاکستانی قوم کی بدنامی اور اس سے وابسطہ دوسرے عوامل کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔ اور مجھے پھر عرض کرنے دیجیے کہ آپ سب میں سے کوئی بھی ایسا جان بوجھ کر نہیں کر رہا ہے لیکن ان سب اختلافات کا منطقی نتیجہ یہی نکل رہا ہے اور نکلتا رہے گا۔ جیسا کہ سطور بالا میں ذکر ہو چکا ہے کہ بے قصور اور گناہ گار کی بحث لاینحل و لاحاصل ہوگی لہزا اس بحث میں پڑے بغیر میں پوری کمیونٹی کی طرف سے دست بستہ آپ سب حضرات سے نہات عاجزی و انکساری سے التجا کرتا ہوں کہ آپ عفو و درگزر، تدبر، فہم و فراست، فراغ دلی اور اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور قرآن و سنت کی روشن تعلیمات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے مخالفین کو معاف کردیجیے۔ اب ہو سکتا ہے شیطان آپ کو بہکائے اور انا کے بھیس میں آپ کو بھٹکائےکہ آپ تو بالکل معصوم ہیں سارا قصور دوسرے کا ہے یا آپ کی انا آپ کو پہل کرنے سے روکے تو جی کڑا کر کے ایسی انا کو پائوں تلے کچل دیجیے جو ایک فتنہ و فساد کو ختم کرنے میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ اور پھر غور فرمائیے میں آپ سے معافی مانگنے کی نہیں معاف کر دینے کی درخواست کر رہا ہوں۔ یقین کیجیےمعاف کر دینے کے بعد آپ دلی اطمینان اور ذہنی سکون محسوس کریں گے۔

یاد رکھیے محسن انسانیت رسول اللہ صلی اللہ و الیہ وسلم نے بھی اپنے کیسے کیسے مخالفین و جانی دشمنوں کو معاف فرمایا تھا۔ کچرا پھینکنے والی عورت کی عیادت و معافی، ہندہ نامی عورت جس نے آپ صلی اللہ و الیہ وسلم کے چچا کا کلیجہ چبایا تھا اس کی معافی اور ایسے لاتعداد واقعات ہیں جن سے آپ واقف ہیں یہ سب آپ کے پیش نظر رہنے چاہیئں۔ آئیے نیا سال ہے اس نئے سال کا آغاز تجدید تعلقات سے کیجیے۔ ہم آپ سے یہ نہیں کہتے کہ کل سے آپ باہم شیر و شکر ہو جائیں۔ اختلاف ہونا فطری عمل ہے لیکن باہمی اختلاف کو اس سطح پر نہ لائیں جہاں دین اور ملک و قوم کو نقصان پہنچے۔

پوری کمیونٹی کی نظریں آپ کی طرف ہیں۔اگر آپ میری اور پوری کمیونٹی کی التجاؤں کا پاس نہیں رکھتے تو اللہ کے واسطے، اللہ کے واسطے، اللہ کے واسطے ،رسول اللہ صلی اللہ و الیہ وسلم کی اس سنت کی لاج رکھ لیجیے اور ایک دوسرے کو معاف کر دیجیے۔ اوراگر آج کے بعد سے بہتان طرازی، غیر اخلاقی ویب سائٹس اور ای میلز اور پگڑیاں اچھالنے کا سلسلہ بند ہو جائے تو ہم سمجھیں کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ و الیہ وسلم کی اس سنت کی لاج رکھ لی۔

مجھے یقین ہے آپ اس حقیر کی گزارشات پر ضرور غور کریں گے اور کمیونٹی کو مایوس نہیں کریں گے۔ یہ تحریر بہت احتیاط سے لکھی گئی ہے تا کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو لیکن پھر بھی اگر میری کسی بات سے آپ کا دل دکھا ہو تو مجھے معاف کر دیجیے گا۔ اللہ ہم سب کو نیک ہدایت فرمائے، آمین۔ فقط آپ کا ہمدرد ایک پاکستانی بھائی  ۔

پس تحریر : عزت مآب سفیر پاکستان جناب نور محمد جادمانی صاحب ،محترم ندا خان صاب، محترم شہزاد بہلم صاحب، محترم الطاف غفار صاحب اور پاکستان ایسوسی ایشنز کے تمام عہدے داران ،جناب عقیل صدیقی صاحب،مولانا ڈاکٹر سلیم الرحمن صاحب،جاپان میں تمام مذہبی و سیا سی جماعتوں کے سربراہان آپ سب ہمارے رہنما ہیں اور جاپان میں پاکستانی کمیونٹی آپ کی جانب امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہی ہے اور آپ کے مناصب اور فرائض کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ سے یہ توقع کر رہی ہے کہ آپ سب بھی وسیع تر مفاد کے پیش نظر ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائیں گے۔ اگر کسی کا نام شامل ہونے سے رہ گیا ہو تو معاف فرمائیے گا۔

نوٹ: یہ تحریر   خود کو ایک عام پاکستانی کہنے والے کسی نامعلوم شخص کی ہے ، جو ادارے کو ای میل کے ذریعے موصول ہوئی ہے۔ ادارے کا تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ تاہم، اس میں اٹھائے گئے نکات کی عوامی اہمیت کے پیش نظر اسے شائع کیا جارہا ہے ۔