پاکستان کی وزیر خارجہ کا دورہ جاپان - 18ویں بین الاقوامی ایشیا فورم سے خطاب

 

پاکستان کی وزیر خارجہ محترمہ حنا ربانی کھر، جمعرات 24 مئی سے جاپان کا سہ روزہ دورہ کر رہی ہیں۔ جمعرات کو جاپان آمد کے فوراً بعد انہوں نے جاپان کے وزیر اعظم یوشی ہیکو نودا سے خیر سگالی ملاقات کی۔ جمعے کے روز انہوں نے ایشیا کے مستقبل کے موضوع پر ہونے والے 18 ویں دو روزہ فورم کے دوسرے روز کے اجلاس سے خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے پاک جاپان تعلقات کی 60 ویں سالگرہ کا ذکر کرتے ہوئے ، تعلقات میں مزید پیشرفت کی ضرورت پر زور دیا۔ جاپان سے تعاون و سرمایہ کاری کی توقعات کے حوالے سے انہوں نے توانائی کے شعبے کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری سے جہاں پاکستان کی توانائی کی مشکلات کم ہوں گی، وہیں جاپانی سرمایہ کار وں کے لیے بھی یہ منافع بخش شعبہ ہے۔
انہوں دہشت گردی کے جنگ میں پاکستان کی قربانیوں، خصوصاً فوجیوں اور شہریوں کی جانوں کی قربانیوں اور معیشت کو پہنچنے والے مالی نقصانات کا ذکر کیا اور کہا کہ عالمی امن کے لیے کی جانے والی ہماری کاوشوں کو اہمیت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان قربانیوں کے بدلے امداد نہیں مانگتے، لیکن یہ ضرور توقع کرتے ہیں کہ ہمیں ترقی یافتہ ممالک کی منڈیوں تک خصوصی رسائی حاصل ہو۔سلالہ واقعے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے فوجیوں نے پہل کی ہوتی (جیسا کہ پاکستان پر الزام لگایا جاتا ہے) تو یہ کیا یہ ممکن ہے کہ ایساف کا کوئی فوجی نہ تو ہلاک ہو اور نہ کسی کو کوئی زخم آئے۔اپنے خطاب، اور سوالوں کے جوابات کے دوران، وزیر خارجہ انتہائی پراعتماد تھیں، اور انہوں نے حاضرین پر بہت اچھا تاثر چھوڑا۔
 بعد ازاں  شام کو انہوں نے جاپان کے وزیر خارجہ کواچیرو گیمبا سے ملاقات کی۔
 
ایشیا فورم کے اجلاس کی تصاویر