ایمبیسی میں کمیونٹی میٹنگ میں پاکستانیوں کی عدم دلچسپی ۔قصور کس کا ہے ؟

محمد انور میمن

راشد صمد صاحب کی زیر ادارت نکلنے والے آن لائن اخبار ’اردو ورلڈ نیوز‘ میں پیر 30 جنوری کو پاکستانی سفارت خانے کی کمیونٹی سے شکایت کے بارے میں ایک مضمون شائع ہوا ہے، جس کا عنوان ہے ایمبیسی میں کمیونٹی میٹنگ میں پاکستانیوں کی عدم دلچسپی، سو فیصد غیر حاضری۔
مذکورہ مضمون میں  یہ شکایت بیان کی گئی ہے کہ سفارت خانہ تو جاپان میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی شکایات دور کرنے کے لیے میٹنگ کا اہتمام کر رہا ہے، لیکن کمیونٹی اس میں دلچسپی نہیں لے رہی ۔اسی مضمون سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سفارت خانے نے اس میٹنگ کے لیے پہلے جمعے کی شام کا جو وقت مقرر کیا تھا ، وہ ’کچھ‘ پاکستانیوں کے مشورے سے تبدیل کرکے اتوار کو کردیا گیا، لیکن میٹنگ میں کوئی پاکستانی نہیں آیا۔ مضمون نگار راشد صمد صاحب نے غیر حاضری کی شرح پورے سو فیصد بیان کی ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ خود انہوں نے بھی اس میں شرکت نہیں کی ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہیں اس بات کی اطلاع کیسے ملی؟ کیا سفارت خانے نے انہیں یہ اطلاع فراہم کی؟ اگر ایسا ہے تو سوال یہ ہے کہ انہیں خصوصی طور پر یہ اطلاع فراہم کرنے کی کیا وجوہات ہیں؟
سفارت خانے کی جانب سے ہر ماہ دو بار پاکستانیوں سے ملاقات کا پروگرام یقیناً سفارت خانے اور کمیونٹی میں موجود خلیج کو ختم کرنے کے لیے ایک قابل ستائش اقدام تھا۔ تاہم ، دونوں بار جمعے کے دن شام 5 بجے یہ میٹنگ منعقد کرنے پر بعض حلقوں سے اعتراضات بھی سامنے آئے تھے۔ راقم خود بھی اس پر اعتراض کرنے والوں میں شامل تھا۔ راقم نے سفارت خانے کو تجویز دی تھی کہ دونوں میٹنگوں کا دن اور وقت الگ الگ رکھا جائے ، تاکہ جو افراد کام وغیرہ کی وجہ سے جمعے کی شام شرکت نہیں کرسکتے ، وہ کسی اور دن یا وقت ہونے والی میٹنگ میں شرکت کرسکیں ۔ سفارت خانے کے علی اسد گیلانی صاحب نے یہ تجویز سفیر پاکستان تک پہنچانے کا وعدہ کیا۔ یقیناً انہوں نے ایسا کیا بھی ہوگا، لیکن اس بارے میں سفارت خانے کی جانب کوئی ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا۔
اب تازہ مضمون سے معلوم ہوا کہ سفارت خانے نے اتوار 29 جنوری کو دوپہر 3 بجے میٹنگ رکھی تھی ، جس میں کسی نے شرکت نہیں کی۔ لیکن سفارت خانے کی اس شکایت کو  ان کی سادہ لوحی ہی کہا جاسکتا ہے۔  سوال یہ ہے کہ انہوں نے کمیونٹی کو اس سے آگاہ کرنے کے لیے کیا کیا؟ پاکستانی کمیونٹی جن اردو آن لائن اخبارات سے اس طرح کی اطلاعات حاصل کرتی ہے ، انہیں اس بات کی کوئی خبر ہی نہیں دی گئی، تو لوگوں کو معلوم کیسے ہو؟ پاکستانی سفارت خانے کا مخمصہ یہ ہے کہ وہ کمیونٹی سے تو تعلق رکھنا چاہتا ہے، لیکن انہیں اطلاع دینے والے میڈیا سے اسے بیر ہے۔ پھر یہ بیل کیسے منڈھے چڑھ سکتی ہے؟
جمعہ 9 دسمبر کو سفارت کانے میں اسد گیلانی صاحب کی جانب سے ایک میڈیا بریفنگ کا اہتمام کیا گیا تھا، جس میں جاپان کے تقریباً تمام آن لائن اردو میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی تھی ۔ اس اجلاس میں سفارت خانے اور کمیونٹی کے روابط کے حوالے سے بھی کئی باتیں زیر غور آئی تھیں ، جن میں سفارت خانے کی جانب سے میڈیا کے ذریعے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اطلاعات فراہم کرنا سرفہرست تھا ۔گیلانی صاحب نے وقتاً فوقتاً میڈیا کو پریس ریلیز جاری کرنے کی تجویز پر اتفاق کیا تھا ۔ اس کے علاوہ خود ان کی خواہش پر ماہانہ میڈیا بریفنگ منعقد کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا تھا ۔ لیکن اس بات کو تقریباً 2 ماہ گزر جانے کے باوجود نہ تو سفارت خانے کی جانب سے کوئی پریس ریلیز سامنے آیا، نہ کوئی میڈیا بریفنگ اس کے بعد منعقد ہوئی ۔ جب آپ میڈیا سے اتنے متنفر ہوں گے، تو آپ کے پروگراموں کی اطلاعات کمیونٹی کو کون پہنچائے گا؟ نہ تو آپ کے پاس تمام پاکستانیوں کے فون یا فیکس نمبر ہیں ، نہ ان کے ای میل ایڈریس۔ اور نہ ہی سب لوگوں کو فرداً فرداً اطلاع دینا ممکن ہے۔تو پھر بات گھوم کر میڈیا پر ہی آتی ہے ، جو اس کام کو بخوبی انجام دے سکتا ہے ۔
میری سفیر پاکستان سے گزارش ہے کہ کمیونٹی سے رابطے کے حوالے سے سفارت خانے کے طرز عمل کا بھی جائزہ لیں، اور اس میں مثبت تبدیلی لائیں۔