ڈیموکریٹک پارٹی آف جاپان کا صدارتی انتخاب

 

 

جاپان کی حکمران جماعت ، ڈیموکریٹک پارٹی آف جاپان کے نئے سربراہ کا چناؤ 14 ستمبر کو ہوگا ۔ پارٹی کے موجودہ صدر ، جاپان کے وزیراعظم ناؤتو کان ہیں ۔ جبکہ ان کے مدمقابل امیدوار ، پارٹی کے سابق سیکرٹری جنرل اچیرو اوزاوا ہیں ۔

جاپان میں ایوان زیریں میں اکثریت رکھنے والی جماعت ، حکمران جماعت ہوتی ہے ، اور اس کا سربراہ جاپان کا وزیر اعظم ہوتا ہے ۔ اگر پارٹی کے صدارتی انتخاب میں جناب اوزاوا جیت جاتے ہیں ، تو وہ جاپان کے آئندہ وزیراعظم ہوں گے ۔ گویا جناب کان کی وزارت عظمیٰ ، ایک سال سے بھی کم عرصے میں ختم ہوجائے گی ۔

پارٹی کے بعض اراکین پارلیمان کا خیال تھا کہ اتنے کم وقت میں وزیراعظم تبدیلی دنیا کے لئے مثبت پیغام نہیں ہوگا ، اور اس سے دنیا میں جاپان کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے ۔چنانچہ پارٹی کے سربراہی انتخاب کو کچھ عرصے تک ملتوی کردیا جانا چاہئے ۔ تاہم پارٹی کی اکثریت نے اس خیال سے اتفاق نہیں کیا ، اور وقت پر انتخاب پر زور دیا ۔

اکثر سیاسی جماعتوں کی طرح ڈیموکریٹک پارٹی آف جاپان بھی دھڑے بندیوں کا شکار ہے ، اور سابق سیکرٹری جنرل اوزاوا ، پارٹی کے سب سے بڑے دھڑے کے قائد ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل ہی انہیں پارٹی فنڈ کے اسکینڈل کے باعث سیکرٹری جنرل کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا ، لیکن ان کا پارٹی میں اثر و رسوخ اب بھی سب سے زیادہ سمجھا جاتا ہے ۔

جناب کان نے پارٹی کا صدر بننے کے بعد سے مالیاتی معاملات کو شفاف انداز میں چلانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے ، جناب اوزاوا سے اپنا فاصلہ برقرار رکھا ہوا ہے ۔ وہ ملکی پالیسیوں کو اپنے انداز سے چلا رہے ہیں ۔ عام انتخابات کے وقت پارٹی کے کئے گئے وعدوں میں سے کچھ پر عملدرآمد نہ کر سکنے کے بارے میں ان کا مؤقف ہے کہ وعدوں پر عملدرآمد میں سرکاری وسائل کو بھی مد نظر رکھا جانا چاہئے ۔ جن وعدوں کے لئے فی الحال مالی وسائل دستیاب نہیں ہیں ، ان کو کچھ عرصے کے لئے موقوف کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔

دوسری جانب جناب اوزاوا کا موقف ہے کہ پارٹی کے انتخابی وعدوں پر ہر صورت میں مکمل عملدرآمد ہونا چاہئے ، چاہئے اس کے لئے دیگر منصوبوں میں کٹوتی ہی کیوں نہ کرنی پڑے ۔ وہ سرکاری اخراجات میں زبردست کمی کے قائل ہیں ۔ان کا خیال ہے کہ وعدوں پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں ، ان کی پارٹی کو آئندہ ہونے والے انتخابات میں شکست ہو سکتی ہے ۔

اسی طرح جاپان کے جنوبی پریفیکچر اوکیناوا میں قائم امریکی فوجی اڈوں کے مسئلے پر بھی دونوں کے خیالات میں تضاد پایا جاتا ہے ۔ گنووان شہر کےگنجان آباد علاقے میں قائم فُتینما ایئر اسٹیشن ( Futenma Air Station)کی اس علاقے سے منتقلی پر گزشتہ دور حکومت میں جاپان اور امریکہ میں اتفاق ہو چکا تھا ۔ تاہم اُس اتفاق کے تحت مذکورہ اڈہ ، اوکیناوا ہی کے دوسرے علاقے میں منتقل کیا جانا تھا ۔ جاپان میں واقع امریکی فوجی اڈوں کی اکثریت ، اوکیناوا پریفیکچر میں ہے ۔

 گزشتہ عام انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے وعدہ کیا تھا کہ برسراقتدار آنے کے بعد وہ فتینما ایئر اسٹیشن کو ، ممکنہ طور پر جاپان سے باہر ، اور اگر یہ ممکن نہ ہوا تو اوکیناوا سے باہر تو ضرور منتقل کرے گی ۔ لیکن جناب کان کے پیشرو ، ڈیموکریٹک پارٹی کے وزیر اعظم یُوکی او ہاتویاما نے پارٹی کے انتخابی وعدے کو پس پشت ڈالتے ہوئے ، فوجی اڈے کی اوکیناوا کے اندر ہی دوسرے مقام پر منتقلی کی تجویز کو منظور کرلیا ۔ اس فیصلے کا شدید ردعمل ہوا اور ان کی عوامی مقبولیت انتہائی کم ہوگئی ۔ تاہم ان کے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد آنے والے وزیراعظم کان نے  بھی یہ فیصلہ برقرار رکھا ہوا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اوکیناوا  پریفیکچر کے لوگوں کے جذبات کا خیال کرتے ہوئے ، مذکورہ فوجی اڈے کو پریفیکچر سے باہر منتقل کرنا چاہتے ہیں ، تاہم جاپان کی سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے ایسا کرنا مفید نہیں ہوگا ۔

پارٹی کے انتخابی وعدوں کو ایفا نہ کرنے کے باعث ، نہ صرف عوام میں ، بلکہ پارٹی کے اندر بھی ان کی مقبولیت کم ہو رہی ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ صدارتی انتخاب میں وہ اپنا پارٹی صدر کا عہدہ بچا سکیں گے ، یا جناب اوزاوا سے شکست کھا جائیں گے ۔ تجزیہ نگاروں کی توجہ اس بات پر بھی مرکوز ہے ، اگر جناب اوزاوا پارٹی کے صدر اور پھر جاپان کے وزیر اعظم بنتے ہیں تو ، کیا وہ امریکہ کو اس بات پر رضامند کرسکیں گے کہ فتینما(Futenma) فضائی اڈہ ، اوکیناوا سے باہر منتقل کیا جائے ۔