ٹوکیو میں افغانستان کی امداد کی کانفرنس

 

جاپان میں 8 جولائی کو ٹوکیو افغان کانفرنس کے نام سے ، افغانستان کی امداد کرنے والے ممالک کا ایک اجلاس ہوا۔ افغانستان میں امن و استحکام کو یقینی بنانے اور ملک کو ترقی دینے کے لیے منعقدہ اس اجلاس میں کوئی 30 ممالک اور اقوام متحدہ کی تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے۔ زیادہ تر ممالک کی نمائندگی وزرائے خارجہ نے کی، جبکہ میزبان ملک جاپان کے وزیر اعظم یوشی ہیکو  نودا اور اجلاس کے مرکزی ملک افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کانفرنس میں شرکت کی۔پاکستان کی نمائندگی  وزیر خارجہ محترمہ حنا ربانی کھر نے کی۔

اجلاس میں افغانستان کو آئندہ 3 سالوں میں 16 ارب ڈالر کی امداد دینے کی منظوری دی گئی، جو سلامتی کی صورتحال میں بہتری، اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے استعمال کی جائے گی۔ پیسے کے ضیاع اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اس رقم کے استعمال کی نگرانی کے لیے لائحہ عمل تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

کانفرنس کے موقع پرپاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے،  جاپان کے وزیر خارجہ کواچیرو  گیمبااور امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے علاوہ، برطانیہ ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ   ، اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے بھی ملاقات کی۔ بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کی خواہش پر محترمہ کھر نے ان سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں پاک بھارت تعلقات معمول پر لانے ، اور سرکریک اور کشمیر سمیت تمام مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔
 

ٹوکیو افغان کانفرنس  کی تصاویر