نیٹوں کی جنگ ،   ہاتھا پائی تک۔

 

پاکستان ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری الطاف غفار نے ، گزشتہ روز پیش آنے والے تشدد کے واقعے کے بارے میں ایک بیان بھیجا ہے ، جسے ذیل میں شائع کیا جارہا ہے ۔            ادارہ ۔

 

گزشتہ روز  سائتاما پریفیکچر میں  تشدد کا جو  واقعہ پیش آیا ہے ، اس پر ہمیں گہری تشویش ہے ۔ ایک ہی واقعہ کو دو نیٹوں نے مختلف زاویے سے پیش کیا ہے ۔ ایک نے اپنے اوپر تشددکا ، جبکہ  دوسرے نے اغوا  کی کوشش کا دعوا کیا ہے ۔حقیقت کی تحقیقات تو پولیس کرہی رہی ہوگی ،مگر اس واقعہ نے پوری کمیونٹی کا سر شرم سے جھکا دیا ہے ۔ہم پاکستانی  جاپان میں سب سے منظم اور متحد کمیونٹی ہونے کا دعوا کرتے ہیں، لیکن  اس واقعہ نے ہماری پول کھول دی ہے اور جاپانی حکومت کے سامنے ہماری حقیقت عیاں ہو گئی ہے۔ہم پاکستان میں ہونے والے آئے دن تشدد کے واقعات کا الزام وہاں کے معاشرے اور سیاست پر لگا کر اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیتے ہیں، مگر یہاں ہم کیا کر رہے ہیں ؟ ہمیں یہاں رہتے ہوئے بیس،پچیس سال ہوگئے ہیں ،مگر ہم ابھی تک اپنے آپ کو صحیح انسان نہیں بنا سکے، مسلمان تو دور کی بات ہے ۔کیا یہی منظم اور پڑھی لکھی کمیونٹی کا شیوہ ہوتا ہے؟؟؟
اکثر یہ کہا جاتا ہے کمیونٹی میں جو انتشار ہے اس کی ذمہ دار پاکستان ایسوسی ایشنز ہیں ۔ میں اس بات کو رد کرتے ہوئے یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا کہ اس کے ذمہ دار صرف اور صرف دو نیٹ ہیں ۔ ان دو نیٹوں کی لڑائی نے پوری کمیونٹی کو تقسیم کرکے رکھ دیا ہے ۔ یہ نیٹ ، دعوا  تو کمیونٹی کی نمائندگی کا کرتے ہیں، مگر عمل اس کے برعکس ہے ۔ایک تومکمل طور پر  صرف ایک گروپ کا ترجمان بنا ہوا ہے، جبکہ دوسرا، جزوقتی دوسرے کا۔صحافتی ذمہ داری اور ایمانداری کا دونوں ہی میں فقدان ہے۔جب تک کمیونٹی کے رہنما ، نیٹوں کے تابع رہیں گے اور ان پر انحصار کریں گے، یہ انتشار ختم نہیں ہوسکے گا۔
نیٹوں کو کمیونٹی کے تابع کریں ،اپنے فیصلے خود کریں، اور کمیونٹی میں اتفاق پیدا کریں تو نیٹوں کی لڑائی خود ختم ہو جائے گی۔اور ان کو غلط اورذاتی مفاد کے لئے استعمال کرنے والے بھی اپنی موت آپ مر جائیں گے۔